Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ عازمین حج کے کوٹہ میں اضافے کیلئے مرکز سے نمائندگی پر زور

تلنگانہ عازمین حج کے کوٹہ میں اضافے کیلئے مرکز سے نمائندگی پر زور

تلنگانہ قانون ساز کونسل میں حافظ پیر شبیر احمد کا اظہار تشویش

تلنگانہ قانون ساز کونسل میں حافظ پیر شبیر احمد کا اظہار تشویش

حیدرآباد /20 مارچ (سیاست نیوز) رکن قانون ساز کونسل حافظ پیر شبیر احمد نے تلنگانہ کا حج کوٹہ گھٹ جانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر زور دیا کہ مرکزی حکومت سے بات چیت کرتے ہوئے تلنگانہ کے لئے مزید دو ہزار کا کوٹہ بڑھانے کے لئے ضروری اقدامات کریں۔ آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں انھوں نے بتایا کہ حج کوٹہ کی تقسیم میں حیدرآباد اور تلنگانہ کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست کی تقسیم کا سب سے بڑا اثر حج کوٹہ پر پڑا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کل ہی حج کمیٹی کی جانب سے دونوں ریاستوں (تلنگانہ و آندھرا پردیش) کے عازمین کی قرعہ اندازی ہوئی ہے۔ تلنگانہ سے 15 ہزار اور آندھرا پردیش سے صرف 3800 درخواستیں وصول ہوئی ہیں، جب کہ تلنگانہ کے 2760 عازمین کا انتخاب عمل میں آیا اور آندھرا پردیش کے لئے 2245 عازمین کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 14 فیصد ہے، جب کہ آندھرا پردیش میں یہ تناسب صرف 6 فیصد ہے، اس طرح آبادی کے تناسب اور درخواستوں کی تعداد دونوں میں تلنگانہ، آندھرا پردیش سے آگے ہے۔ لیکن آبادی اور درخواستوں کے اضافہ کو نظرانداز کرتے ہوئے آندھرا پردیش سے تلنگانہ کو صرف 500 حج کوٹہ زیادہ دیا گیا ہے، جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ صدر نشین حج کمیٹی کے فرائض انجام دے چکے ہیں، ان کے دور میں 6800 عازمین حج کمیٹی کے ذریعہ سعادت حج حاصل کرتے تھے، تاہم ریاست کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں میں حج کوٹہ بڑھانے کی بجائے موجودہ کوٹہ میں سے 2000 گھٹا دیا گیا، جب کہ ریاست گجرات میں 3000 تک حج کوٹہ بڑھا دیا گیا۔ انھوں نے چیف منسٹر پر زور دیا کہ وہ تلنگانہ کے حج کوٹہ میں مزید 2000 کے اضافہ کے لئے مرکزی حکومت سے نمائندگی کریں۔ انھوں نے کہا کہ سنٹرل حج کمیٹی ہر درخواست گزار سے 300 روپئے وصول کرتی ہے، لہذا جن درخواست گزاروں کا نام قرعہ اندازی میں نہیں آیا ان کو یہ رقم واپس کردینا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT