تلنگانہ عوام سے چندرا بابو نائیڈو کے وعدے گمراہ کن

ورنگل میں ’ پرجا گرجنا ‘ کے موقع پر کئے گئے اعلانات مضحکہ خیز ، ہریش راؤ کا بیان

ورنگل میں ’ پرجا گرجنا ‘ کے موقع پر کئے گئے اعلانات مضحکہ خیز ، ہریش راؤ کا بیان

حیدرآباد۔/3اپریل، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ عوام کو خوش کن وعدوں کے ذریعہ گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ورنگل میں تلگودیشم ’’ پرجا گرجنا ‘‘ کے موقع پر کئے گئے وعدوں اور اعلانات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے ہریش راؤ نے یاد دلایا کہ چندرا بابو نائیڈو کے 9سالہ دورِ حکومت میں تلنگانہ کے ساتھ ہر شعبہ میں ناانصافی کی گئی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے تلنگانہ ریاست کے قیام میں تاخیر کیلئے بھی نائیڈو کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں تلنگانہ عوام کی تائید حاصل کرنے چندرا بابو نائیڈو وعدوں کا سہارا لے رہے ہیں لیکن انہیں تلنگانہ میں تائید ہرگز حاصل نہیں ہوگی۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ تلگودیشم پارٹی آندھرائی پارٹی ہے جس نے تشکیل تلنگانہ کی مخالفت کی۔ ہریش راؤ نے کہاکہ اقتدار کیلئے اپنے خسر این ٹی راما راؤ کو دھوکہ دینے والے چندرا بابو نائیڈو عوام کو دھوکہ دینے کا ریکارڈ رکھتے ہیں، وہ اقتدار کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کے وعدوں پر تلنگانہ عوام بھروسہ کرنے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے 50لاکھ کسانوں کو برقی کی عدم سربراہی کا سہرا چندرا بابو نائیڈو کے سر جاتا ہے۔ ان کے دور میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات سب سے زیادہ پیش آئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 9سالہ دورِ حکومت میں چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ میں ایک بھی سرکاری ڈگری کالج کیوں قائم نہیں کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کی کوئی علحدہ شناخت نہیں تھی بلکہ این ٹی آر کے داماد کی حیثیت سے انہوں نے اپنی شناخت بنائی اور پھر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے نائیڈو سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ سے ناانصافیوں کیلئے عوام سے معذرت خواہی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں مباحث کے دوران پارٹی ارکان کو لفظ تلنگانہ کے استعمال سے روکنے والے چندرا بابو نائیڈو ہی تھے۔

انہوں نے کہا کہ 9ڈسمبر 2009ء کو مرکز کی جانب سے تلنگانہ کے حق میں اعلان کے بعد نائیڈو نے اپنا موقف تبدیل کرلیا جس کے باعث تشکیل تلنگانہ میں تاخیر ہوئی۔ اگر چندرا بابو نائیڈو اپنے موقف پر قائم رہتے تو 2009ء میں ہی تلنگانہ ریاست تشکیل پاجاتی۔ انہوں نے تلنگانہ کے سینکڑوں نوجوانوں کی خودکشی کیلئے نائیڈو کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کی مخالف تلنگانہ پالیسی کے سبب نوجوانوں نے اپنی جانوں کو قربان کردیا۔انہوں نے شہیدان تلنگانہ کے افراد خاندان کی بھلائی سے متعلق صدر تلگودیشم کے اعلانات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ جس وقت نوجوان اپنی جانیں قربان کررہے تھے چندرا بابو نائیڈو نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی لیکن آج تلنگانہ میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے شہیدان تلنگانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ہریش راؤ نے یاد دلایا کہ جس وقت پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل پر مباحث جاری تھے، چندرا بابو نائیڈو پارلیمنٹ کے احاطہ میں رہ کر بل کی مخالفت کیلئے بی جے پی کو اُکسارہے تھے۔ انہوں نے چندرا بابو نائیڈو کو چیلنج کیا کہ وہ خود کو تلنگانہ کے تائیدی ثابت کرنے کیلئے قسم کھائیں۔ ہریش راؤ نے محبوب نگر کے گدوال میں کانگریس کارکنوں کی جانب سے ٹی آر ایس کے اقلیتی کارکنوں پر حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے پولیس کو خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دے۔

TOPPOPULARRECENT