Saturday , December 15 2018

تلنگانہ عوام کی مجموعی ترقی ، مسلمانوں کیلئے سب پلان ، کانگریس کا منشور

اقلیتوں کی فلاح و بہبود ، اوقافی جائیدادوں کا تحفظ، مسلم نوجوانوں کو روزگار ،اور تعلیمی وظائف کا وعدہ

حیدرآباد۔27نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کانگریس کی جانب سے جاری کئے گئے ’ عوامی منشور برائے تبدیلی ‘ کا جائزہ لینے کے لئے ضلعی سطح پر عوامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور منشور پر کی جانے والی عمل آوری کے متعلق ہر سال اعلان کیا جائے گا اور عوام کو تفصیلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ صدر پردیش کانگریس کیپٹن اتم کمار ریڈی نے منشور کی اجرائی کے موقع پر پریس کانفرنس کے دوران یہ بات کہی۔ اس موقع پر رکن کور کمیٹی کل ہند کانگریس کمیٹی مسٹر جئے رام رمیش ‘ مسٹر آر سی کنٹیا‘ ڈاکٹر شرون ‘ مسٹر انجن کمار یادو کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ ڈاکٹر شراون نے تلنگانہ کانگریس کمیٹی کے منشور کے سلسلہ میں تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ اور تلنگانہ عوام کی مجموعی ترقی کیلئے تیار کردہ اس منشور میں ہر شعبہ اور ہر طبقہ کو شامل رکھا گیا ہے۔ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں اقلیتوں کے لئے سب پلان کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے بجٹ میں کانگریس اقتدار حاصل کرنے کی صورت میں اقلیتی بجٹ کو آبادی کے تناسب کے حساب سے مختص کیا جائے گا جو کہ سب پلان کا حصہ ہوگا۔ کانگریس کی جانب سے کئے گئے اعلان کے مطابق اگر ریاست تلنگانہ کا بجٹ 2 لاکھ کروڑ کا ہوگا تو آبادی کے تناسب کے اعتبار سے اقلیتی بجٹ 22ہزار کروڑ کا ہوجائے گا۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے علاوہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں تیار کردہ منصوبہ کے مطابق ریاستی وقف بورڈ کو عدالتی اختیارات فراہم کئے جائیں گے۔ انہو ںنے اردو زبان کی ترقی ‘ مسلم نوجوانوں کو روزگار سے مربوط کرنے کے کورسس کے علاوہ تعلیمی وظائف کی فراہمی اور اسکالر شپس کی فراہمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ آئمہ و موذنین کو ریاست میں ٹریژیری کے ذریعہ ماہانہ 6ہزار روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ریاست کی تمام عبادتگاہوں کومفت برقی سربراہی عمل میںلائی جائے گی ۔ اقلیتوں کے لئے کئے جانے والے اعلانات میں جامعہ نظامیہ کے اسنادات کو سرکاری ملازمتوں کے لئے قابل قبول بنایا جائے گا اور اقلیتوں کو امکنہ اسکیم کے تحت مکان کی تعمیر کیلئے 5لاکھ روپئے یکمشت جاری کئے جائیں گے ۔ مڈاکٹر شراون نے کہا کہ ریاست میں اردو اساتذہ کے تقررات کیلئے خصوصی ڈی ایس سی کا انعقاد عمل میں لایاجائے گا۔ روسٹر سسٹم برخواست کرتے ہوئے اردو جائیدادوں پر تقررات کو یقینی بنایا جائے گا۔سچر کمیٹی اور سدھیر کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری کی جائے گی ۔ مسلم خواتین کو معمولی تجارت کیلئے 80 فیصد سبسیڈی کے ساتھ ایک لاکھ روپئے تک کے قرض فراہم کئے جائیں گے جن میں صرف 20ہزار روپئے قابل واپسی ہوں گے۔ ریاست کی جامعات سے الحاق کرتے ہوئے ریاست کے ہر ضلع میں اقلیتی نوجوانوں کیلئے خصوصی تربیتی مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ محکمہ تعلیم میں مسلم طلبہ کے اسکالر شپس اور تعلیمی وظائف کیلئے علحدہ بورڈ کی تشکیل عمل میں لائی جائے گی۔ اقلیتی غالب آبادی والے علاقوں میں اردو اسکولوں کی دوبارہ کشادگی عمل میں لائی جائے گی

اوورسیز اسکالر شپس کے علاوہ مسلم لڑکیوں کے لئے مخصوص علحدہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ کانگریس نے اپنے منشور میں اعلان کیا ہے کہ مسلم پلمبر‘ فٹر‘ پینٹر‘ پنکچر شاپ‘ پان ڈبہ کیلئے 5لاکھ روپئے قرض فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر 80فیصد سبسیڈی فراہم کی جائے گی۔ اردو درخواستوں کو قبول کرنے کیلئے علحدہ عہدیداروں کے تقررات تمام دفاتر میں کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ دینی مدارس کو عصری بنانے کا خصوصی منصوبہ پیش کیا جائے گا۔ دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کو بھی حکومت کی جانب سے اسکالر شپس اور بس پاس کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔اقلیتوں پر کئے جانے والے حملوں کو روکنے کے لئے خصوصی قانون سازی کی جائے گی اور آلیر انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں گی ۔ بینکوں کو مسلمانوں کو قرضہ ٔ جات کی اجرائی کیلئے خصوصی احکامات کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی ۔ دائرۃ المعارف کو مستحکم کرنے کے لئے ڈائریکٹر کے فوری تقرر کے علاوہ فنڈس جاری کرتے ہوئے مخطوطات کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ دائرۃ المعارف کے ملازمین کے ملازمتوں کا تحفظ کیا جائے گا اور فنڈس کی اجرائی کیلئے قانون سازی کی جائے گی ۔ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں کے دو لاکھ تک کے قرض کو فوری معاف کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ آروگیہ شری اسکیم کی حد میں تین لاکھ تک کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 5لاکھ کیاجائے گا۔اس کے علاوہ شعبہ صحت میں متعدد اقدامات کئے جائیں گے اور عثمانیہ ہاسپٹل سے متصل اراضی پر ماڈرن دواخانہ کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی اور موجودہ عمارت کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں گے۔ ریاست کے تمام منڈلوں میں 20تا30 بستروں پر مشتمل سرکاری دواخانوں کا قیام اور حلقہ اسمبلی میں 100 بستروں پر مشتمل سرکاری دواخانہ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔بیروزگار نوجوانوں کو 3000روپئے ماہانہ بھتہ جاری کیا جائے گا ۔ شادی مبارک اسکیم کی رقم کو بڑھا کر 1لاکھ 50 ہزار 116روپئے کردیاجائے گا۔ ریاست میں موجود تمام سفید راشن کارڈ رکھنے والوں کو سالانہ 6گیاس سلینڈرس مفت سربراہ کئے جائیں گے۔ محکمہ پولیس میں خدمات انجام دینے والوں کو ہفتہ واری تعطیل دی جائے گی۔ ریاست کے بجٹ کا 20 فیصد حصہ تعلیم پر صرف کیا جائے گا ۔

مسلم اقلیت کیلئے کانگریس کا ایکشن پلان

* آبادی کے تناسب سے سب پلان
* مسلم میناریٹیز فینانس کارپوریشن کا قیام
* سچر اور سدھیر کمیٹیوں کی سفارشات پر عمل آوری
* وقف بورڈ کو جوڈیشل پاورس
* مستحق افراد کو مکان کی تعمیر کیلئے پانچ لاکھ روپئے کی امداد
* ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ 6000 روپئے اعزازیہ
* اردو میڈیم ٹیچرس کی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات
* اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت 20 لاکھ روپئے کی امداد
* لڑکیوں کیلئے اقامتی اسکولس کا قیام
* اقلیتی نوجوانوں کو 80 فیصد سبسیڈی کے ساتھ 5 لاکھ
روپئے قرض کی فراہمی
* اقلیتی آبادیوں میں سرکاری دواخانوں کا قیام
* مساجد اور چرچس کو مفت برقی سربراہی
* دینی مدارس کے طلبہ کو اسکالرشپ اور دیگر سہولتیں
* دائرۃ المعارف کی ترقی کیلئے خصوصی فنڈس
* پبلک سرویس کمیشن میں مسلم نمائندہ کی شمولیت

TOPPOPULARRECENT