Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا 14 مارچ کو بجٹ

تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا 14 مارچ کو بجٹ

29 مارچ کو تصرف بل ، بزنس اڈوائزری کمیٹی کا اجلاس
حیدرآباد ۔ 11 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا 14 مارچ کو بجٹ اور 29 مارچ کو تصرف بل پیش ہوگا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ سیشن میں مزید اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اسمبلی کا ایجنڈہ تیار کرنے والی بزنس اڈوائزری کمیٹی کا آج اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا ہے ۔ جس میں مختلف عوامی مسائل پر غور و خوض کیا گیا ۔ 11 اور 12 مارچ کو گورنر کے خطبہ پر اظہار تشکر مباحث ہوگی ۔ 14 مارچ کو بجٹ پیش کیا جائے گا ۔ 15 مارچ کو تعطیل ہوگی ۔ 16 مارچ تا 19 مارچ تک بجٹ پر مباحث ہوں گے اور 19 مارچ کو ریاستی وزیر فینانس بجٹ پر جواب دیں گے ۔ 20 تا 22 مارچ تک ڈیمانڈس اور گرانٹس 2016-17 پر تین دن تک وویٹنگ ہوگی ۔ 23 ، 24 اور 25 مارچ تک اسمبلی کو تعطیلات ہوں گی ۔ 29 مارچ تصرف بل اور گورنمنٹ بلز پیش کئے جائیں گے ۔ حکومت نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ جاریہ مارچ کے اواخر تک تصرف بل منظور ہونا لازمی ہے ۔ لہذا ایوان کی کارروائی کو پرامن اور کارآمد بنانے میں تعاون کریں ۔ ریاستی وزیر آبپاشی و اسمبلی امور مسٹر ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت ہر مسئلہ کو اسمبلی میں موضوع بحث بنانے کے لیے تیار ہے ۔ بشرطیکہ اپوزیشن موضوعات کو قاعدے قانون اور اسمبلی رولس کے مطابق پیش کریں ۔ اجلاس میں تمام جماعتوں نے اسمبلی سیشن کو تصرف بل کی منظوری کے بعد بھی مزید ایک ہفتہ تک توسیع دینے کا مطالبہ کیا جس پر حکومت نے ضرورت پڑنے پر 29 مارچ کو پھر ایکبار بزنس اڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ قائد اپوزیشن اسمبلی مسٹر کے جانا ریڈی نے کہا کہ ہم تکنیکی وجوہات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تصرف بل کی منظوری میں تعاون کرنے سے اتفاق کرچکے ہیں ۔ ساتھ ہی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں توسیع دینے اور وقفہ سوالات سے قبل تحریک التواء نوٹس دینے کی روایت پر عمل کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں تاہم حکومت نے اہم موضوعات ہوں تو غور کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ بصورت دیگر وقفہ سوالات اور وقفہ صفر کے بعد ہی تحریک التواء نوٹس کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بی جے پی کے قائد مقننہ ڈاکٹر لکشمن تلگو دیشم کے قائد مقننہ مسٹر ریونت ریڈی اور سی پی آئی کے رکن اسمبلی مسٹر رویندر نائک نے حکومت کی من مانی پر تشویش کا اظہار کیا اور عوامی مسائل کو موضوع بحث بنانے کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT