Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ مسئلہ پر تبادلہ خیال کیلئے بی جے پی قائدین کو وزیر اعظم کی دعوت

تلنگانہ مسئلہ پر تبادلہ خیال کیلئے بی جے پی قائدین کو وزیر اعظم کی دعوت

نئی دہلی 10 فبروری (سیاست ڈاٹ کام )پارلیمنٹ کی کارروائی میں مسلسل خلل اندازی کے دوران وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بی جے پی کے اعلی قائدین کو 12 فبروری کو ڈنر پر مدعو کیا ہے تا کہ اہم تلنگانہ بل اور دیگر انسداد کرپشن قانون سازیوں کی پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے ان کی تائید حاصل کرسکے ۔ وزیر اعظم نے شخصی طور پر سینئر بی جے پی قائد ایل کے ا

نئی دہلی 10 فبروری (سیاست ڈاٹ کام )پارلیمنٹ کی کارروائی میں مسلسل خلل اندازی کے دوران وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بی جے پی کے اعلی قائدین کو 12 فبروری کو ڈنر پر مدعو کیا ہے تا کہ اہم تلنگانہ بل اور دیگر انسداد کرپشن قانون سازیوں کی پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے ان کی تائید حاصل کرسکے ۔ وزیر اعظم نے شخصی طور پر سینئر بی جے پی قائد ایل کے اڈوانی اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے قائدین اپوزیشن سشما سوراج اور ارون جیٹلی سے کل رات ربط پیدا کرتے ہوئے انہیں اپنی قیامگاہ پر ڈنر کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ڈنر پر اجلاس قبل ازیں آج مقرر تھالیکن ایل کے اڈوانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے جو اپنے انتخابی حلقہ گاندھی نگر کے دورہ پر ہیں اجلاس ملتوی کردیا گیا ۔ حکومت نے مبینہ طور پر بی جے پی کے مطالبات کو تسلیم کرلیا ہے کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید بل 2013 میں ترمیمات کی جائیں ۔ وزیر اعظم بی جے پی قائدین سے ملاقات کے دوران امکان ہے کہ انہیں تیقن دینے کے سیما آندھرا علاقہ کے ساتھ انصاف کے بارے میں ان کے اندیشوں کا ازالہ کیا جائے گا ۔ بی جے پی نے اپنا موقف واضح کردیا ہے کہ وہ تلنگانہ کی تشکیل کی حامی ہیں۔ بل کی تائید کیلئے اس کی کوئی شرائط نہیں ہے لیکن سیما آندھرا علاقہ کے عوام کے اندیشوں کا واضح طور پر ازالہ کیا جانا چاہئے ۔

قانون سازی کے ذریعہ اور معاشی پیاکیج کا اعلان کر کے ان کے اندیشے دور کئے جاسکتے ہیں۔ امکان ہے کہ تلنگانہ بل راجیہ سبھا میں ایک یا دو دن میں پیش کیا جائے گا جبکہ اسے صدر جمہوریہ کی منظوری حاصل ہوجائے گی مرکزی کابینہ نے بل کی منظوری دے دی ہے اور حکومت نے اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے صدر جمہوریہ کے پاس منظوری کیلئے روانہ کردیا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی تلنگانہ مسئلہ پر 5 فبروری کو اجلاس کے آغاز کے وقت سے ہی ہنگاموں کی نذر ہورہی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے فیصلے کے اعلان کے بعد انتخابات سے پہلے ہی پارلیمنٹ کے آخری اجلاس میں یہ بل منظور کرلیا جائے ۔ دریں اثناء یو پی اے حکومت کیلئے ایک پریشانی کھری کرتے ہوئے مرکزی وزیر فاروق عبداللہ نے آج آندھرا پردیش کی تقسیم اور تلنگانہ کے قیام کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش تقسیم نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ عوام ایسا نہیں چاہتے ۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے جبکہ پارلیمنٹ کا اجلاس آج دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا تھا۔کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب ترنمول کانگریس نے آج کہا کہ وہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے مقصد سے پیش کئے جانے والے تلنگانہ بل کی پارلیمنٹ میں مخالفت کرے گی۔پارٹی کے ترجمان ڈیرک اوبرائن نے آج اس کا انکشاف کیا۔

TOPPOPULARRECENT