Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ مسودہ بل پر مباحث، چیف منسٹر کی رپورٹ تیار

تلنگانہ مسودہ بل پر مباحث، چیف منسٹر کی رپورٹ تیار

حیدرآباد ۔ 20 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے اسمبلی میں مسودہ تلنگانہ بل پر مباحث میں حصہ لینے کیلئے 450 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کرلی ہے۔ تقریباً 10 گھنٹے تک تقریر کرنے کا امکان ہے۔ تلنگانہ مسودہ بل پر مباحث کیلئے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کی جانب سے دی گئی مہلت 23 جنوری کو ختم ہورہی ہے۔ ریاستی حکومت نے مزید 4 ہفتوں کی مہلت م

حیدرآباد ۔ 20 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے اسمبلی میں مسودہ تلنگانہ بل پر مباحث میں حصہ لینے کیلئے 450 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کرلی ہے۔ تقریباً 10 گھنٹے تک تقریر کرنے کا امکان ہے۔ تلنگانہ مسودہ بل پر مباحث کیلئے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کی جانب سے دی گئی مہلت 23 جنوری کو ختم ہورہی ہے۔ ریاستی حکومت نے مزید 4 ہفتوں کی مہلت میں توسیع دینے کا مکتوب روانہ کرتے ہوئے صدرجمہوریہ سے مطالبہ کیا۔ پرنب مکرجی کی جانب سے آج کل میں اس پر فیصلہ کرنے کا امکان ہے۔ ابتداء سے ریاست کی تقسیم کی مخالفت کرنے والے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے مباحث میں حصہ لینے کیلئے پوری طرح تیاری کرلی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ تلنگانہ کے مسودہ بل پر مباحث کیلئے چیف منسٹر نے کافی غوروخوض کیا ہے اور ریاست کی تقسیم سے ہونے والے نقصانات اور متحدہ آندھراپردیش کو برقرار رکھنے کی صورت میں ہونے والے فائدے پر وہ تفصیلی تقریر کریں گے۔

انہوں نے 450 صفحات پر مشتمل رپورٹ بھی تیار کرلی ہے اور 10 گھنٹوں تک تقریر کرنے کا امکان ہے۔ اگر چیف منسٹر کی تقریر کے دوران کوئی رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں تو ان کی تقریر کے وقت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر ریاست کی تقسیم کی کیوں مخالفت کررہے ہیں۔ ریاست کی تقسیم سے تلنگانہ کو پہنچنے والے نقصانات کو بھی وہ تفصیلی طور پر پیش کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے بحث میں حصہ لینے کیلئے دوسری ریاستوں کی تقسیم بالخصوص چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور اترکھنڈ کی تقسیم کے موقع پر اسمبلی میں جو مباحث ہوئے ہیں، اس کا بھی جائزہ لے چکے ہیں جس کا وہ اپنی تقریر کے دوران حوالہ بھی دیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے ماہرین قانون اور دانشوروں سے بھی مشاورت کی ہے۔ 1956ء میں کن حالت میں آندھراپردیش تشکیل دیا گیا اور آندھراپردیش کی تشکیل کے بعد علاقہ واری سطح پر ترقی کے اعداد و شمار کو بھی اپنی تقریر کے ذریعہ اسمبلی میں ریکارڈ کرائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT