Tuesday , August 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ مقننہ کے بجٹ سیشن کا آج سے طوفانی آغاز

تلنگانہ مقننہ کے بجٹ سیشن کا آج سے طوفانی آغاز

مسلمانوں کو تحفظات ، ڈبل بیڈروم اسکیم اور کسانوں کے مسائل پر حکمران اور اپوزیشن ارکان میں بحث متوقع

حیدرآباد۔ 11 مارچ (پی ٹی آئی؍سیاست نیوز) تلنگانہ مقننہ کا بجٹ سیشن 12 مارچ سے شروع ہورہا ہے جس میں کسانوں کے مسائل، ٹی آر ایس حکومت کے ترقیاتی و فلاحی پروگرامس اور حکمران جماعت کی طرف سے کئے گئے انتخابی وعدوں پر طوفانی بحث متوقع ہے۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن کے خطاب سے سیشن کا آغاز ہوگا۔ بعدازاں اسمبلی کی بزنس اڈوائزری کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں سیشن کی مدت اور اس کے ایجنڈہ کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ٹی آر ایس ذرائع نے کہا کہ حکمران جماعت اپنے ارکان اسمبلی و کونسل کے اجلاس میں پارٹی کی حکمت عملی کو قطعیت دی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تمام وزراء اور ارکان کو پوری معلومات کے ساتھ ایوان پہونچنے اور اپوزیشن کے سوالات کا موثر جواب دینے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری ذرائع نے توقع ظاہر کی کہ 15 مارچ کو بجٹ پیش کیا جاسکتا ہے۔ سیشن کے دوران کسانوں کے مسائل نمایاں اہمیت کے ساتھ بحث کا موضوع بنیں گے۔ ریاستی حکومت نے کسانوں کے لئے سرمایہ کاری امدادی اسکیم کا اعلان کی ہے، لیکن اپوزیشن کانگریس اور بی جے پی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت زرعی قرضوں کی معافی اور کسانوں کو مختلف فصلوں پر بہتر قیمت خرید دینے کے وعدوں پر موثر عمل آوری میں ناکام ہوگئی ہے۔ ریاستی حکومت کسانوں کو روزانہ 24 گھنٹے برقی کی سربراہی کو اپنے ایک اہم کارنامہ کے طور پر پیش کررہی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حال ہی میں مرکز میں ایک غیرکانگریس اور غیربی جے پی محاذ کی تشکیل کی حمایت کی تھی اور اپنی ریاست کی ترقی کے لئے مرکز سے امداد طلب کی تھی۔ ان دونوں موضوعات پر بھی بحث ہوسکتی ہے۔ حکمران ٹی آر ایس دہلی میں مسلسل یہ مطالبہ کررہی ہے کہ پسماندہ مسلمانوں کے تحفظات کوٹہ میں اضافہ کیلئے مرکز کی طرف سے ریاست تلنگانہ کی مدد کی جائے۔ مقننہ کے اجلاس میں مسلم تحفظات کا مسئلہ بھی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں ، غریبوں کے لئے ڈبل بیڈروم گھروں کی تعمیر اور دیگر انتخابی وعدوں پر عمل آوری میں ٹی آر ایس حکومت کی مبینہ ناکامی کا مسئلہ بھی اُٹھائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT