Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / تلنگانہ ملازمین کو 2 جون کو عبوری پی آر سی دینے کا اعلان

تلنگانہ ملازمین کو 2 جون کو عبوری پی آر سی دینے کا اعلان

اندرون دو تین دن سہ رکنی کمیٹی کا قیام، خاتون ملازمین کو پانچ دن کی خصوصی رخصت ، چیف منسٹر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 16 مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ نے دو تین یوم میں پی آر سی کیلئے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ 2 جون کو عبوری پی آر سی دینے اور 15 اگست کو مکمل پی آر سی کا اعلان کیا جائے گا۔ ترقی و تبادلوں کا عمل 15 جون تک مکمل ہوجانے کی توقع کا اظہار کیا۔ خاتون ملازمین کو سالانہ 5 دن کی خصوصی رخصت دینے کا بھی وعدہ کیا۔ چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میں ایمپلائز، ٹیچرس تنظیموں کے نمائندوں سے تفصیلی تبادلہ خیال کرنے کے بعد رات دیر گئے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے سرکاری ملازمین تلنگانہ کی تعمیرنو کیلئے بھی غیرمعمولی رول ادا کررہے ہیں جو ناقابل فراموش ہے جس پر انہیں فخر ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایمپلائز کے تبادلوں سے حکومت نے اتفاق کیا ہے۔ تبادلوں کو شفاف اور بدعنوانیوں سے پاک بنانے کیلئے اسپیشل چیف سکریٹری اجئے مشرا کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں اعلیٰ عہدیداروں اور ہنسا اور شیوشنکر کو شامل کرتے ہوئے انہیں ایمپلائز اور ٹیچرس تنظیموں کے نمائندوں سے مشاورت کرنے کے بعد رپورٹ کابینی ذیلی کمیٹی کو دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پنچایت انتخابات سے قبل تبادلوں کے عمل کو مکمل کرلیا جائے گا۔ کے سی آر نے کہا کہ ماضی میں پی آر سی رپورٹ تیار کرنے کیلئے طویل وقت لیا جاتا تھا اور ایک رکنی کمیٹی تشکیل دی جاتی تھی۔

اس روایت کو ختم کرتے ہوئے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے اور رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے 15 اگست سے ایک ہفتہ قبل مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے۔ ایمپلائز یونین کی نمائندگی پر کابینی سب کمیٹی کو برقرار رکھا جارہا ہے۔ شوہر اور بیوی کو ایک ہی مقام پر کام کرنے کی اجازت دینے اور ترقی کو تین سال کے بجائے دو سال کا پیمانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری ایمپلائز کو 2 ڈی اے دینا باقی ہے۔ ایک ڈی اے کی اجرائی کیلئے وہ آج ہی دستخط کرچکے ہیں۔ مزید ایک ڈی اے آئندہ دو ماہ میں جاری کردیا جائے گا۔ پنشن اسکیم کی بحالی کا مسئلہ قومی مسئلہ ہے جو ریاست کے اختیارات میں نہیں ہے۔ زونل سسٹم کا جائزہ لینے کیلئے ایک کابینی سب کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ صدرجمہوریہ کو رپورٹ روانہ کرنے سے قبل سب کمیٹی ملازمین کے نمائندوں سے مشاورت کرے گی۔ کابینہ میں ان کو منظوری دینے کے بعد صدرجمہوریہ سے رجوع کرتے ہوئے 15 تا 20 میں دستخط کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ ٹیچرس کے یکساں رول کا مسئلہ عدالت میں زیردوراں ہے۔ آج کی مشاورت میں حکومت کی جانب سے ہی عدالت میں پیروی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایل ٹی سی کیلئے حکومت پر ملازم کیلئے ایک پالیسی تیار کررہی ہے۔ یہ رقم غیرمشروط رہے گی۔ پہلے سفر کرنے والے ایمپلائز کو ٹرین اور بس کے ٹکٹ دکھانے کی شرط رکھی گئی ہے، جس سے تلنگانہ حکومت نے دستبرداری اختیار کی ہے۔ کابینی سب کمیٹی اس کا جائزہ لے رہی ہے۔ ضرورت پڑنے پر 2 جون کو ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔ دوردراز علاقوں میں کام کرنے والے ایمپلائز کو اسپیشل الونس دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ملازمت کے دوران انتقال کرنے والے ملازم کے ارکان خاندان میں کسی ایک کو اندرون 10 دن ملازمت فراہم کرنے اور ریٹائرمنٹ کے دن ہی سارا پیاکیج ملازم کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہیلت اسکیم کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ لینگویج پنڈت اور پی آئی ٹی کے مسائل بھی حل کرنے کا تیقن دیا۔ خاتون ملازمین کو سال میں 5 دن خصوصی رخصت دینے کا مطالبہ کیا گیا جس کو حکومت نے قبول کرلیا ہے۔ آندھرا میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو بہت جلد واپس لایا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT