Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ ملازمین کی تنخواہوں میں 43 فیصد اضافہ

تلنگانہ ملازمین کی تنخواہوں میں 43 فیصد اضافہ

حیدرآباد۔/5فبروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریاست تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے تمام سرکاری ملازمین، اساتذہ اور ورکرس کیلئے پے ریویژن کمیشن سفارشات کی روشنی میں تنخواہوں کی بنیادی یافت پر (Basic-Pay) نظر ثانی ( ریویژن ) کرتے ہوئے موجودہ بنیادی یافت میں 43 فیصد ( فٹمنٹ) کا اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔ آج شام سکریٹریٹ میں اخباری نمائندوں

حیدرآباد۔/5فبروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریاست تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے تمام سرکاری ملازمین، اساتذہ اور ورکرس کیلئے پے ریویژن کمیشن سفارشات کی روشنی میں تنخواہوں کی بنیادی یافت پر (Basic-Pay) نظر ثانی ( ریویژن ) کرتے ہوئے موجودہ بنیادی یافت میں 43 فیصد ( فٹمنٹ) کا اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔ آج شام سکریٹریٹ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حکومت کے اس فیصلہ سے واقف کرایا اور بتایا کہ پے ریویژن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں صرف 29فیصد فٹمنٹ کا اضافہ کرنے کی سفارش کی تھی لیکن حکومت تلنگانہ نے اپنے اختیار تمیزی سے استفادہ کرتے ہوئے 29فیصد فٹمنٹ میں اضافہ کرنے کے بجائے 43فیصد فٹمنٹ کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق چیف منسٹر متحدہ آندھرا پردیش ریاست مسٹر کے روشیا نے 39فیصد فٹمنٹ کا اضافہ کیا تھا اور اس پر عمل آوری کی تھی۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بنیادی یافت (Basic-Pay) پر عمل آوری ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے یعنی 2جون 2014سے کی جائے گی۔ لیکن ماہ جون تا ماہ فبروری کی اضافہ شدہ رقومات ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ میں جمع کردی جائیں گی۔ اضافہ شدہ تنخواہیں ماہ مارچ کی تنخواہ یعنی یکم اپریل کو حاصل ہونے والی تنخواہ سے حاصل ہوں گی۔علاوہ ازیں ان اضافہ شدہ تنخواہوں کی رقم ماہ جون کے بعد ریٹائرڈ ہونے والے سرکاری ملازمین کو بھی حاصل ہوگی۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کو فٹمنٹ میں اضافہ کے باعث حکومت تلنگانہ پر 6500کروڑ روپیوں کا زاید مالی بوجھ عائد ہوگا۔ چیف منسٹر نے اپنی حکومت کو ملازمین دوست حکومت سے تعبیر کیا اور ملازمین یونین قائدین و ملازمین سے ایک گھنٹہ زاید کام کرتے ہوئے حکومت کے مالی وسائل میں اضافہ کرنے کیلئے اقدامات کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں قانون ساز کونسل ارکان کیلئے انتخابات منعقد ہونے والے ہیں اور ان انتخابات کا اعلامیہ جاری ہونے کی صورت میں انتخابی ضابطہ اخلاق کا نفاذ ہوجائے گا، اس دوران حکومت کوئی اعلان کرنے کے موقف میں نہیں رہے گی جس کے پیش نظر اپنے ملازمین کو مزید انتظار کروانے کے بجائے فی الفور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کردینے کا حکومت نے فیصلہ کیا۔ چیف منسٹر نے علحدہ تلنگانہ جدوجہد کے موقع پر تلنگانہ ملازمین کی جانب سے کی گئی عام ہڑتال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کے حصول میں تلنگانہ کے سرکاری ملازمین نے اپنا تاریخی رول ادا کیا تھا۔چیف منسٹر نے کہا کہ ماہ مارچ کی تنخواہ (یعنی یکم اپریل کو حاصل ہونے والی تنخواہ) سے اضافہ شدہ تنخواہ کی رقم حاصل ہونے کویقینی بنانے کیلئے کل یعنی 6 فبروری کو باقاعدہ طور پر احکامات جاری کئے جائیں گے ۔ مسٹر چندر شیکھر راو نے کہا کہ پے رویویژن پر عمل آوری میں کوئی نقائص یا کوتاہیاں اور کسی نوعیت کے مسائل پیش آنے کی صورت میں ان کی یکسوئی کیلئے اسپیشل چیف سکریٹری مسٹر پردیپ چندرا کی صدارت میں تشکیل دی گئی اناملیز کمپنی (Anamalies Comitee) کارکرد رہے گی اور کوئی بھی کسی بھی نوعیت کی شکایت رہنے کی صورت میں ملازمین و یونین قائدین راست ان سے (پردیپ چندرا ) نمائندگی کرسکتے ہیں ۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر موجودہ قوانین میں ترمیمات کے ذریعہ آسان بنانے کا اعادہ کریت ہوئے کہا کہ قوانین کی ضخیم کتابیں پائی جاتی ہیں اور ان تمام قوانین کو مختصر اور آسان بنانے کیلئے حکومت بہت جلد اقدامات کرے گی ۔ اس موقع پر مسٹر ای راجندر وزیر فینانس مسٹر پردیپ چندرا اسپیشل چیف سکریٹری مسٹر ناگی ریڈی پرنسپال سکریٹری محکمہ فینانس ‘ نریندر راو صدر تلنگانہ سکریٹریٹ ایمپلائز یونین ‘دیوی پرساد صدر تلنگانہ این جی اوز یونین و دیگر یونین قائدین وغیرہ بھی چیف منسٹر کے ساتھ موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT