Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میںجملہ 27 اضلاع ہونگے ، حیدرآباد کو جوں کا توں موقف

تلنگانہ میںجملہ 27 اضلاع ہونگے ، حیدرآباد کو جوں کا توں موقف

اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ، تعلیمی نصاب میں حضور نظام کے دور کا احاطہ ، وقف جائیدادوں کا موثر تحفظ ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا بیان

 

کابینی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ چیف منسٹر کو پیش
اہم خدوخال
٭  ریوینیو ڈیویژن کی تعداد 44 سے بڑھ کر 58 ہوجائے گی
٭  منڈلس کی موجودہ تعداد 459 میںاضافہ کے بعد 539 ہوگی
٭  ہفتہ کو کُل جماعتی اجلاس  اور اسی دن کابینہ کا بھی اجلاس
٭  پیر کو اعلامیہ کی اجرائی اور عوامی رائے کا حصول
٭  دسہرہ کے موقع پر نئے اضلاع کی تشکیل کا اعلامیہ

حیدرآباد۔ 18 اگست (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں اضلاع کی تعداد بڑھاکر 27 کردینے کی تجویز تیار کی گئی ہے تاہم حیدرآباد کو جوں کا توں رکھا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کی تشکیل کے بعد اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے گا۔ نصابی تعلیم میں حضور نظام کے دور کا احاطہ کیا جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ وقف جائیدادوں کے تحفظ کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 1972ء میں ضلع رنگاریڈی کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ اس کے بعد علیحدہ ریاست تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر نئے اضلاع تشکیل دیئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نئے اضلاع کی تشکیل کا جائزہ لینے کے لئے کابینی ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اس کے صدرنشین ہیں۔ انہوں نے مفوضہ ذمہ داری کو بخوبی نبھاتے ہوئے مقررہ مدت میں چیف منسٹر کو اپنی رپورٹ پیش کردی ہے جس پر عوامی حلقوں میں محمد محمود علی کی ستائش کی جارہی ہے۔ روزنامہ سیاست کے نمائندہ نے اس سلسلے میں ڈپٹی چیف منسٹر سے بات چیت کی اور انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کے موجودہ 10 اضلاع میں 17 کا اضافہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اضلاع کا رقبہ کافی وسیع و عریض ہے جس کی وجہ سے نظم و نسق کی ذمہ داریاں پوری کرنے اور حکومت کے کاموں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کی تشکیل سے نظم و نسق موثر طور پر چلایا جاسکے گا اور عوام کی بھی خدمات بہتر انداز میں انجام دی جاسکیں گی۔ سرکاری عہدیداروں کو عوامی مسائل کی یکسوئی میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کی تشکیل میں تلنگانہ کے صدر مقام حیدرآباد کو جوں کا توں رکھا جارہا ہے کیونکہ حیدرآباد ایک تاریخی ضلع ہے اور اس کی اپنی انفرادی پہچان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پڑوسی ضلع رنگاریڈی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کا یہ موقف ہے کہ نئے اضلاع کی تشکیل سے جہاں نظم و نسق میں شفافیت پیدا ہوگی وہیں لا اینڈ آرڈر پر بھی قابو رہے گا اور ترقی کی رفتار تیز ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ حکومت کی فلاحی اسکیموں سے سماج کے تمام طبقات کو فائدہ پہنچانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقف جائیدادوں کا تحفظ اور اس کی نگہداشت زیادہ آسان ہوجائے گی۔ وقف بورڈ کی اوقافی جائیدادوں پر کڑی نظر رہے گی۔

نصابی تعلیم میں حضور نظام کے دور حکومت کو شامل کرتے ہوئے ان کے عدل و انصاف، رعایا کی خبرگیری، فلاحی اسکیموں کے علاوہ قابل قدر تاریخی پراجیکٹس کو اُجاگر کیا جائے گا۔ محمود علی نے کہا کہ شادی مبارک اسکیم کے تعلق سے کلکٹرس کو وہ پہلے ہی ہدایت دے چکے ہیں کہ ایم آر اوز سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے جلد از جلد درخواستوں کی یکسوئی کریں۔ انہوں نے کہا کہ مستحق اور غریب مسلمانوں کو اس اسکیم سے کافی فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت ، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے معاملے میں پابند عہد ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تلنگانہ میں جن 27 اضلاع کی تجویز ہے ان کے نام اس طرح ہیں: عادل آباد، منچریال، نرمل، کریم نگر، پداپلی، جگتیال، ورنگل، محبوب نگر، ہنمکنڈہ، بھوپل پلی، میدک، سدی پیٹ، سنگاریڈی، نظام آباد، کاماریڈی، نلگنڈہ، سوریہ پیٹ، یادگری، محبوب نگر، ناگرکرنول، ونپرتی، کھمم، کتہ گوڑم، حیدرآباد، وقارآباد، شمس آباد اور ملکاجگری۔

 
حیدرآباد۔ 18 اگست (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی زیرقیادت کابینی ذیلی کمیٹی نے تلنگانہ میں 17 نئے اضلاع کا اضافہ کرنے کی چیف منسٹر سے سفارش کی ہے۔ اس ضمن میں 20 اگست کو کُل جماعتی اجلاس طلب کیا جارہا ہے اور نئے اضلاع کی تشکیل کا عمل قطعی مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ کابینی ذیلی کمیٹی نے عوامی منتخبہ نمائندوں، سرکاری و رضاکارانہ تنظیموں اور قائدین کے ساتھ اجلاس طلب کیا تھا اور ان کی رائے حاصل کرنے کے بعد یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ تلنگانہ میں موجودہ 44 ریوینیو ڈیویژن کی تعداد بڑھاکر 58 اور 459 منڈلس کی موجودہ تعداد کو بڑھاکر 539 کرنے کی تجویز دی ہے۔ صدرنشین کابینی ذیلی کمیٹی و ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کیمپ آفس میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے رپورٹ پیش کردی۔ اس موقع پر ریاستی وزیر جگدیشور ریڈی اور چیف سیکریٹری راجیو شرما کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ چیف منسٹر نے تقریباً 6 گھنٹے تک اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ اس رپورٹ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے نئے اضلاع ، ریوینیو ڈیویژنس اور منڈلس کے بارے میں محمود علی سے تفصیلات حاصل کیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے جغرافیائی اعتبار سے نئے اضلاع کی تشکیل پر اپنی رائے پیش کی۔ ذرائع نے بتایا کہ 20 اگست کو کُل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے رائے حاصل کی جائے گی اور اسی دن کابینہ کا اجلاس بھی منعقد ہوگا جس میں کابینی ذیلی کمیٹی کی سفارشات منظور کی جائیں گی۔ 22 اگست کو نئے اضلاع کے تعلق سے اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس کے بعد ایک ماہ تک عوامی رائے حاصل کی جائے گی اور دسہرہ کے موقع پر اعلامیہ جاری کردیا جائے گا۔

 

نئے اضلاع کی تشکیل کو تلنگانہ ملازمین کی تائید
حیدرآباد۔ 18 اگست (این ایس ایس) تلنگانہ اسٹیٹ ایمپلائز اسوسی ایشن نے چیف سیکریٹری راجیو شرما سے ملاقات کی اور نئے اضلاع کی تشکیل کے منصوبہ کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے موجودہ زونل سسٹم برخاست کرنے پر زور دیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT