Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میںکوئی بھی پارٹی ٹی آر ایس کا مقابلہ نہیں کرسکتی

تلنگانہ میںکوئی بھی پارٹی ٹی آر ایس کا مقابلہ نہیں کرسکتی

تلگودیشم لاکھ کوششوں پر بھی عوامی تائید سے محروم ہوجائے گی، ٹی آر ایس قائدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/27مئی، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے دعویٰ کیا ہے کہ تلنگانہ میں کوئی بھی پارٹی ٹی آر ایس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور کانگریس اور تلگودیشم لاکھ کوشش کرلیں وہ عوامی تائید حاصل کرنے سے محروم رہیں گے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے جو ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کئے ہیں ان کے آگے کوئی بھی پارٹی ٹک نہیں پائے گی۔ تلگودیشم سے حالیہ عرصہ میں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان اسمبلی ای دیاکر راؤ، ایم گوپی ناتھ ، پی کرشنا ریڈی، راجندر ریڈی، ایم کرشنا راؤ، آر گاندھی اور جی سائینا نے آج مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اور تلگودیشم کے اتحاد کے بارے میں اطلاعات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں پارٹیاں عوامی اعتماد سے محروم ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈوکی مخالف تلنگانہ پالیسی سے عاجز آکر انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ دیاکر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس اور تلگودیشم اگر متحد بھی ہوجاتے ہیں تو اس سے ٹی آر ایس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سینئر قائد جے پال ریڈی نے تلگودیشم کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری طرف آندھرا پردیش میں تلگودیشم پارٹی کے مہا ناڈوکا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مہا ناڈو میں پارٹی کو اس بارے میں اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہیئے۔ دیاکر ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی مخالفت کیلئے ہی تلگودیشم پارٹی قائم کی گئی تھی لیکن آج سیاسی بقاء کیلئے دونوں جماعتیں اتحاد کی کوشش کررہی ہیں۔ دیاکر راؤ نے کہا کہ پارٹی کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے 12 ارکان اسمبلی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کی پالیسی ہمیشہ مخالف تلنگانہ رہی ہے اور انہوں نے دہلی میں تشکیل تلنگانہ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ دیاکر راؤ نے کہا کہ خسر جے پال ریڈی اور داماد ریونت ریڈی ٹی آر ایس کی مخالفت میں اتحاد کی کوشش کررہے ہیں۔ خسر اور داماد کے علاوہ کوئی اور طاقت بھی ٹی آر ایس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی پارٹی میں ابتداء سے شامل نہیں تھے اور وہ درمیان میں شریک ہوئے۔ ایسے قائدین آج پارٹی کی بقاء کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی سے کوئی بھی اتحاد تلگودیشم کیلئے شرمناک ثابت ہوگا کیونکہ پارٹی کے قیام کا مقصد ہی کانگریس کی مخالفت تھا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کا وجود ختم ہوچکا ہے اور پارٹی کا کیڈر ٹی آر ایس سے وابستہ ہوچکا ہے۔ ناگم جناردھن ریڈی کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے دیاکر راؤ نے کہا کہ ناگم جناردھن ریڈی کا وہ احترام کرتے ہیں لیکن ان کی پالیسیوں سے اختلاف ہے۔ انہوں نے جناردھن ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ کے سی آر پر تنقیدوں سے گریز کریں۔ رکن اسمبلی تیگل کرشنا ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کی پالیسیوں کی ہم مکمل تائید کرتے ہیں۔ کسی بھی حکومت نے عوام کی بھلائی کیلئے اس قدر پروگرام شروع نہیں کئے جتنے ٹی آر ایس نے شروع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم دور حکومت میں جن اسکیمات کا اعلان کیا گیا ان پر آج تک عمل آوری نہیں کی گئی۔ کرشنا ریڈی نے کہا کہ کوئی بھی جماعتیں اتحاد کرلیں لیکن کامیابی تو ٹی آر ایس کی ہوگی۔ رکن اسمبلی راجندر ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کو کانگریس کے ہاتھ فروخت کردیا ہے۔ تلگودیشم کے قیام کے بعد اس کے استحکام کیلئے جن قائدین نے قربانیاں دی تھیں آج وہ موجودہ صورتحال سے اُلجھن کا شکار ہیں۔ این ٹی راما راؤ کے نظریات کو فراموش کرتے ہوئے کانگریس پارٹی سے اتحاد کی مساعی افسوسناک ہے۔

TOPPOPULARRECENT