Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں آزادی کا جشن 15 اگسٹ سے 17 ستمبر تک منایا جائے

تلنگانہ میں آزادی کا جشن 15 اگسٹ سے 17 ستمبر تک منایا جائے

خطہ کو آزادی سردار پٹیل نے دلائی ۔ ہم نے حیدرآباد کی ترقی کا ’شیلا نیاس ‘ رکھ دیا ہے ۔ بی جے پی کارکنوں سے وزیر اعظم مودی کا خطاب
حیدرآباد۔7اگسٹ ( سیاست نیوز) ملک میں ہندستانی عوام یوم آزادی سے ایک ہفتہ طویل ’’ترنگا یاترا ‘‘ نکالیں گے لیکن تلنگانہ عوام 15اگسٹ سے 17ستمبر تک ’’ترنگا یاترا‘‘ کا اہتمام کریں کیونکہ انہیں ہندستان کو آزادی حاصل ہونے کے 13ماہ بعد آزادی حاصل ہوئی تھی۔ وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے آج فتح میدان پر بی جے پی کارکنوں سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اس خطہ کو سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آزادی دلوائی ہے۔انہوں نے آج کے دن کو شہر حیدرآباد کیلئے تاریخ ساز دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج تلنگانہ با لخصوص حیدرآباد کی ترقی کا ’شیلا نیاس ‘ رکھا گیا ہے۔ نریندر مودی نے حیدرآباد کو تاریخ ساز سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے وزیر اعظم کے امیدوار بنائے جانے سے پہلے حیدرآباد میں انوکھا سیاسی جلسۂ عام منعقد کیا گیا جس میں داخلہ بذریعہ ٹکٹ رکھا گیا تھا جس نے ملک کے سیاسی مبصرین میں فکری تبدیلی لانے میں کلیدی کردار ادا کیااور آج اس اجلاس میں شریک کارکنوں کو دیکھتے ہوئے انہوں نے دعوی کیا کہ یہ منظر تلنگانہ کے سیاسی مستقبل کو تبدیل کرنے کی عکاسی کر رہا ہے۔ مودی نے ملک میں یکجہتی کے فروغ کو نا گزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک یا ریاست کی ترقی کا انحصار ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و یکجہتی پر ہوتاہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کا ہائی کمان ملک کے 125کروڑ عوام ہیں اور ان کی خواہش کے مطابق حکومت کام کرے گی۔ دلتوں کے خلاف ہونے والے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے نریندر مودی نے جذباتی انداز میں کہا کہ جو لوگ دلتوں کو اپنا ووٹ بینک تصور کرتے ہیں وہ حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو حکومت کو بدنام کرنا چاہتے ہیں وہ ان پر حملہ کریں اور ان پر گولی چلائیں لیکن دلتوں کو نشانہ نہ بنائیں۔ نریندر مودی نے انسانیت کا درس دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی کو یقینی بنانے ملک میں امن و آشتی ‘ بھائی چارگی اور ہم آہنگی ضروری ہے۔اسی لئے حکومت انسانیت کے خلاف کسی بھی جرم کو برداشت نہیں کریگی۔ مودی نے کہا کہ مذہب ‘ ذات یا زبان کی بنیاد پر معاشرے کی تقسیم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے 70برس گذرنے کے باوجود کچھ ایسے اقدامات کرنے باقی ہیں جو نہیں کئے جا سکے اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہئے ۔ وزیراعظم نے پسماندہ طبقات کی ترقی کو اجتماعی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکساں ترقی کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشرے میں اگر دلتوں کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ملک اور دنیا ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے جی ایس ٹی بل پر تمام سیاسی جماعتوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے روشناس کروائے جانے کے بعد ملک کی یکساں ترقی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔ مودی نے امبیڈکر جینتی کے بڑے پیمانے پر انعقاد اور امبیڈکر کو حکومت کے خراج سے دلت ہمنوا جماعتوں میں بوکھلاہٹ پیدا ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نفرت کی سیاست کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے ۔ ریاستی بی جے پی کی جانب سے منعقدہ اجلاس میں ہزاروں بی جے پی کارکن موجود تھے۔ ابتدا میں قائد مقننہ کشن ریڈی نے وزیر اعظم و دیگر مرکزی وزرا کا خیر مقدم کیا۔ مودی کے ہمراہ مرکزی وزرا ایم وینکیا نائیڈو‘ بنڈارو دتاتریہ ‘ پیوش گوئل ‘ سریش پربھو کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ ڈاکٹر کے لکشمن صدر ریاستی بی جے پی ‘ ڈاکٹر جناردھن ریڈی ‘ اندرسین ریڈی ‘ بی رامچندر ریڈی کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ وزیراعظم نے دعوی کیا کہ پچھلے دو سجء ٹہں دہلی میں حکومت کے گلیاریوں سے دلالوں کا خاتمہ عمل میں لایا جا چکا ہے۔ انہوں نے 7 اگسٹ کو ’ہینڈلوم ڈے‘ کی مناسبت سے شرکا سے اپیل کی کہ وہ بافندوں سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے اپنے موبائیل کی لائٹس کھولیں جس پر تمام شرکا نے لائٹس کھولتے ہوئے ہاتھ لہرائے۔ مودی کے خطاب سے قبل ڈاکٹر کے لکشمن نے خطاب کیا ۔ نریندر مودی کی پارٹی اجلاس میں شرکت کے سلسلہ میں حیدرآباد آمد کے موقع پر سخت صیانتی انتظامات کئے گئے تھے اور لال بہادر اسٹیڈیم کے اطراف و اکناف کے تجارتی علاقوں کو بند کروادیا گیا تھا جس کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح اطراف کے علاقوں میں کئی گھنٹوں قبل ٹریفک کی آمد و رفت روک دی گئی تھی اورپولیس کی بھاری جمیعت کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT