Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں آل انڈیا سرویس عہدیداروں کے تقررات کے لیے سرگرمیاں

تلنگانہ میں آل انڈیا سرویس عہدیداروں کے تقررات کے لیے سرگرمیاں

حیدرآباد۔ 7 ۔ جنوری (سیاست نیوز) آل انڈیا سرویسز کے عہدیداروں کی تقسیم کے بعد تلنگانہ حکومت نے اہم محکمہ جات پر تقررات کے سلسلہ میں سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس مسئلہ پر چیف سکریٹری اور حکومت کے مشیروں سے تبادلہ خیال کیا۔ تاکہ اہم عہدوں پر دیانتدار اور صاف ستھرا ریکارڈ رکھنے وال

حیدرآباد۔ 7 ۔ جنوری (سیاست نیوز) آل انڈیا سرویسز کے عہدیداروں کی تقسیم کے بعد تلنگانہ حکومت نے اہم محکمہ جات پر تقررات کے سلسلہ میں سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس مسئلہ پر چیف سکریٹری اور حکومت کے مشیروں سے تبادلہ خیال کیا۔ تاکہ اہم عہدوں پر دیانتدار اور صاف ستھرا ریکارڈ رکھنے والے عہدیداروں کی تعیناتی کو یقینی بنایا جاسکے۔ مرکز کی جانب سے آئی اے ایس ، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس عہدیداروں کے الاٹمنٹ کے بعد یکم جنوری سے تلنگانہ کو الاٹ کردہ عہدیداروں نے رپورٹنگ کا آغاز کردیا ہے ۔ عہدیدار چیف سکریٹری راجیو شرما سے ملاقات کرتے ہوئے رپورٹنگ لیٹر حوالے کر رہے ہیں اور ساتھ ہی چیف منسٹر اور مختلف وزراء سے بہتر پوسٹنگ کی سفارشوں میں مصروف ہیں۔ چیف منسٹر اور ان کے بعض بااعتماد وزراء کے چیمبرس اور قیامگاہوں پر نئے الاٹ کردہ عہدیدار ملاقات کے لئے دیکھے جارہے ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر مخلوعہ عہدوں اور موزوں عہدیداروں کی فہرست مرتب کر رہے ہیں، توقع ہے کہ بہت جلد عہدیداروںکے تقررات سے متعلق پہلی فہرست جاری کردی جائے گی۔ پہلے مرحلہ میں سینئر رتبہ کے حامل عہدیدار کے تقررات کو قطعیت دی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ تقررات کو قطعیت دینے سے قبل چیف منسٹر متعلقہ وزراء سے بھی مشاورت کرسکتے ہیں۔ عہدیداروں کی تقسیم میں تاخیر کے سبب تلنگانہ میں آئی اے ایس عہدیداروں کو ایک سے زائد ذمہ داریاں دی گئی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ 2 جون کے بعد تلنگانہ میں زائد عہدوں کے ساتھ خدمات انجام دینے والے عہدیداروں سے ان کی ترجیح کے بارے میں پوچھا جائے گا جس کے بعد ہی ان کی پوسٹنگ ہوگی۔ اسی دوران چیف منسٹر اقلیتی بہبود اور اس سے متعلق اداروں کیلئے عہدیداروں کی تلاش میں ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ وہ سکریٹری اقلیتی بہبود کے عہدہ پر اسی موزوں آئی اے ایس عہدیدار کو تعینات کرنا چاہتے ہیں لیکن تلنگانہ کو الاٹ کئے گئے 5 آئی اے ایس عہدیداروں میں صرف ایک عہدیدار ہی سکریٹری رتبہ کے حامل ہیں

لیکن انہیں محکمہ اقلیتی بہبود نے خدمات انجام دینے میں دلچسپی نہیں لی جس کا اظہار انہوں نے چیف سکریٹری سے کیا ہے۔ احمد ندیم سکریٹری اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری نبھا رہے ہیں جبکہ ان کے پاس کمشنر اکسائیز اور مینجنگ ڈائرکٹر تلنگانہ بیوریجس کارپوریشن کی اہم ذمہ داری موجود ہے۔ بتایا جاتاہے کہ احمد ندیم اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری سے سبکدوشی کے خواہاں ہیں لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکومت کو کوئی موزوں عہدیدار نہیں مل جاتا۔ اقلیتی عہدیداروں کی محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات سے عدم دلچسپی کے سبب حکومت کو دشواریوں کا سامنا ہے کیونکہ وہ کسی عہدیدار پر جبراً کوئی ذمہ داری مسلط نہیں کرسکتی۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ سکریٹری اقلیتی بہبود کے علاوہ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ، مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن اور سروے کمشنر وقف کے عہدوں کا اقلیتی آئی اے ایس عہدیداروں کو فائز کیا جائے۔ تاکہ ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔

تلنگانہ کو الاٹ کردہ آئی ایف ایس عہدیدار محمد جلال الدین اکبر کو محکمہ جنگلات دوبارہ واپس طلب کرنے کی تیاریوں میں ہے، ان کی واپسی کی صورت میں 3 اہم عہدے خالی ہوجائیں گے جن میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود ، اسپیشل آفیسر وقف بورڈ اور سروے کمشنر وقف شامل ہیں۔ حالیہ عہدیداروں کے الاٹمنٹ میں تلنگانہ کو جو مسلم آئی اے ایس عہدیدار الاٹ کئے گئے ، ان میں احمد ندیم ، سید عمر جلیل ، سید علی مرتضیٰ رضوی ، محمد عبدالعظیم اور سرفراز احمد شامل ہیں جبکہ آئی ایف ایس عہدیداروں میں محمد جلال الدین اکبر واحد مسلم آئی ایف ایس عہدیدار ہیں جنہیں تلنگانہ الاٹ کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ تلنگانہ حکومت اقلیتی بہبود اور اقلیتی اداروں کے اہم عہدوں پر تقررات کو کس طرح قطعیت دے گی۔ وقف بورڈ میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر کا عہدہ طویل عرصہ سے خالی ہے، جس کے باعث بورڈ کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT