Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں آندھرائی قائدین کی مداخلت سے کانگریس کو نقصان

تلنگانہ میں آندھرائی قائدین کی مداخلت سے کانگریس کو نقصان

صدر پردیش کانگریس کمیٹی کی دہلی سے نامزدگی کی مخالفت، ہنمنت راؤ کا بیان

صدر پردیش کانگریس کمیٹی کی دہلی سے نامزدگی کی مخالفت، ہنمنت راؤ کا بیان
حیدرآباد ۔ 19 جولائی (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے دہلی سے تلنگانہ صدر پردیش کانگریس کمیٹی کو نامزد کرنے کے بجائے پارٹی کے مبصرین کو حیدرآباد پہنچ کر تمام قائدین کی رائے حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں آندھرائی قائدین کی مداخلت کو پارٹی کیلئے نقصان دہ قرار دیا۔ آج سی ایل پی آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ ملک میں کانگریس پارٹی کی شکست کا تمام ریاستوں میں جائزہ لیا جارہا ہے مگر تلنگانہ ریاست میں کوئی جائزہ نہیں لیا جارہا ہے۔ دو دن قبل گاندھی بھون میں منعقدہ سکریٹریز کے اجلاس میں چند قائدین نے جہاں پنالہ لکشمیا پر اعتماد کا اظہار کیا وہی چند قائدین نے انہیں عہدے سے ہٹا دینے کا مطالبہ کیا۔ وہ پارٹی ہائی کمان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح اسمبلی اور کونسل کے اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کرنے کیلئے جو طریقہ کار اپنایا گیا وہی فارمولہ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے انتخاب کیلئے بھی اپنائے وہ صدارت کی دوڑ میں شامل نہیں ہے۔ تاہم صدر پردیش کانگریس کمیٹی کا دہلی سے انتخاب کرنے کے بجائے پارٹی کے مبصرین حیدرآباد پہنچ کر پارٹی قائدین سے مشاورت کرتے ہوئے فیصلہ کریں۔ وہ اس سلسلہ میں قائد اپوزیشن اسمبلی مسٹر کے جاناریڈی اور قائد اپوزیشن کونسل مسٹر ڈی سرینواس سے بھی ملاقات کرتے ہوئے تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔ دونوں قائدین نے ان کی تجویز سے اتفاق اور ہائی کمان کو مکتوب روانہ کرنے کا تیقن دیا ہے۔ تلنگانہ کیلئے کانگریس قائدین نے تحریک چلائی۔ صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی ہے مگر فائدہ ٹی آر ایس کو ہوا ہے۔ پردیش کانگریس کی صدارت اور انتخابی تشہیری کمیٹی میں جن قائدین کو شامل کیا گیا وہ صرف اپنے اپنے اسمبلی حلقوں تک محدود تھے جو دورہ نہیں کیا اور نہ ہی انتخابی مہم میں حصہ لیا جیسے ہی کانگریس کی فیصلہ ساز باڈی سی ڈبلیو سی میں تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا اس وقت تلنگانہ میں صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی کا جلسہ عام منعقد کیا جاتا تو عام انتخابات کے نتائج کانگریس کے حق میں ہوتے۔ ٹکٹوںکی تقسیم میں بھی انصاف نہیں ہوا اور نہ ہی پارٹی امیدواروں کو فنڈز فراہم کیا گیا۔ وہ ڈگ وجئے سنگھ سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری شکست کا جائزہ لینے کیلئے دو روزہ اجلاس طلب کریں اور مستقبل کی حکمت عملی تیار کریں۔ آندھرائی قائدین کی تلنگانہ کانگریس میں مداخلت کو فوری بند کردیں۔

TOPPOPULARRECENT