Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں ادویات کی صنعت تباہی کے دہانے پر

تلنگانہ میں ادویات کی صنعت تباہی کے دہانے پر

اندرون دو ماہ کئی کمپنیاں مقفل ، حکومت سے فارماسٹی کی ترقی کے ادعات پر شک
حیدرآباد۔12مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ادویات کی صنعت تباہ ہو رہی ہے یا تلنگانہ میں فارما سٹی میں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی نئی جگہ یا محصولات میں مراعات کے ذریعہ ان صنعتوں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا؟ ریاستی حکومت کے مجوزہ فارما سٹی کو منظوری کے حصول کے سلسلہ میں کہا جا رہا ہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران اجازت حاصل ہو جائے گی۔ اسی دوران یہ اطلاعات منظر عام پر آنے لگی ہیں کہ ریاست تلنگانہ میں ادویات سازی کی صنعت تباہی کے دہانے پر ہے اور گذشتہ 15یوم کے دوران 70سے زائد ادویات ساز کمپنیا ں مقفل کر دی گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے فارما سٹی کو ترقی دینے اور ادویات سازی کے فروغ کے لئے اقدامات کے اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے بر عکس جب ادویات سازی صنعت کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ریاست میں جاری صنعتوں میں15دن کے دوران اب تک 70سے زائد صنعتیں بند ہو چکی ہیں تو اس سے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے تعمیر کئے جا رہے فارما سٹی پارک میں کوئی نئی صنعت کی سرمایہ کاری کی گنجائش نہیں ہے اسی لئے ان صنعتوں کو بند کرتے ہوئے دوبارہ فارما سٹی میں صنعت قائم کروائی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں ان صنعتکارو ںکو نہ صرف سرکاری اراضی حاصل ہو جائے گی بلکہ ان کے اس اقدام سے انہیں محصولات میں بھی رعایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔ادویات سازی کی صنعت میں جاری صورتحال کے متعلق اسوسیشن کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جنرک ادویات کے فروغ کے اقدامات اور بہت جلد اس سلسلہ میں قانون سازی کے متعلق کہا جا رہا ہے اس قانون کی منظوری کی صورت میں حالات میں بدلاؤکی کوئی توقع نہیں ہے اسی طرح ریاستی حکومت اور ریاستی پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے شہر حیدرآباد اور اطراف و اکناف کے علاقو ں میں ماحولیاتی آلودگی کے متعلق کئے جانے والے اقدامات کے سبب بھی صورتحال میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور ادویات ساز کمپنیاں ان حالات سے باہر نہیں آپا رہی ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ماحولیات کے تحفظ کے اقدامات کے نام پر ایک جانب ادویات ساز کمپنیو ںکو ہراساں کرنا اور دوسری جانب فارما سٹی کے قیام کے لئے اجازتوں کے حصول کے اقدامات اور صنعتکاروں وسرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت خود ہی اس نئے فارما سیٹیکل پارک کی ترقی کیلئے موجودہ صنعتوں کو ہی بند کرنے کے لئے مجبور کرنے لگی ہے تاکہ وہ اس فارما سٹی ہب میں اراضیات کے حصول کے ذریعہ سرمایہ کاری کریں اور اس کا راست فائدہ حکومت کو حاصل ہو سکے اور فارما سٹی کی کامیابی کا بھی دعوی کیا جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT