Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اراضیات کی مارکٹ قدر میں اضافہ کیا جائے گا

تلنگانہ میں اراضیات کی مارکٹ قدر میں اضافہ کیا جائے گا

نئی شرحوں کا یکم جولائی سے نفاذ کا امکان ، زمین کی قیمت میں اضافہ سے خریدار متاثر ہوں گے
حیدرآباد ۔ 5 ۔ اپریل : ( ایجنسیز ) : ریاست تلنگانہ میں اراضیات کی مارکٹ قیمت میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے پہلی مرتبہ اضافہ کیا جائے گا جس سے جائیداد کا رجسٹریشن کروانا مہنگا ہوجائے گا ۔ یہ اضافہ توقع ہے کہ 30 تا 50 فیصد کے رینج میں ہوگا ۔ جس کا انحصار مقام پر ہوگا ۔ مثال کے طور پر شہری علاقوں میں یہ اضافہ زیادہ ہوگا ۔ اس سے متعلق فائل کو منظوری کے لیے چیف منسٹر کے دفتر بھیجا گیا ہے ۔ محکمہ مال اراضی کی مارکٹ قدر میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تاکہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے بجٹ نشانوں کو پورا کیا جاسکے ۔ حکومت نے اس سال دس محکمہ کے لیے 4200 کروڑ روپئے کا نشانہ مقرر کیا ہے جو کہ گذشتہ سال کے مقابل 1000 کروڑ روپئے زیادہ ہے ۔ اس کی نئی شرحوں کا نفاذ امکان ہے کہ یکم جولائی سے ہوگا ۔ زمین کی قیمتوں میں اضافہ سے خریدار متاثر ہوں گے کیوں کہ اس کی وجہ امکنہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔ اس کے نتیجہ میں فلیٹس یا علحدہ مکانات خریدنے والوں پر زائد بوجھ پڑے گا ۔ کیوں کہ جائیدادوں کے رجسٹریشن کے وقت زمین کی قیمت اور تعمیری رقبہ کی قیمت کو ملحوظ رکھا جائے گا ۔ گذشتہ سال ریونیو ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس کے ویب سائٹ پر اراضیات کی اضافی مارکٹ وئیلیو کو پوسٹ کیا گیا تھا اور اسٹیک ہولڈرس سے ان کی تجاویز طلب کی گئی تھیں ۔ لیکن اس اضافہ کو لمحہ آخر میں اس وقت موقوف کردیا گیا جب رئیلٹی شعبہ کے نمائندوں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر اس بات کے لیے زور دیا تھا کہ اس تجویز کو کم از کم ایک سال کے لیے اس بنیاد پر روک دیا جائے کہ یہ شعبہ جو عالمی اور مقامی وجوہات کے باعث پانچ سال تک سست روی کا شکار رہا ، ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد ہی اس میں تیزی پیدا ہوئی ہے ۔ ’’ اگرچیکہ زمین کی قیمت میں اضافہ سے ریاستی خزانہ میں زیادہ ریونیو آئے گا لیکن اس سے قابل گنجائش امکنہ پر اثر پڑے گا ۔ متوسط طبقہ اور لوور مڈل کلاسیس کے لوگ اس سے متاثر ہوں گے ۔ ایسے وقت جب کہ ہم قابل گنجائش مکانات کی فراہمی کی باتیں کررہے ہیں ، اس طرح کا اضافہ اس مقصد کے حصول میں مضر ثابت ہوگا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کم از کم چھ ماہ کے لیے اس اضافہ کو روک دے ‘‘ ۔ مسٹر سی شیکھر ریڈی ، سابق نیشنل چیرمین ، سی آر ای ڈی اے ایل نے یہ بات کہی ۔۔

TOPPOPULARRECENT