Thursday , October 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اراضی سروے کا تاریخی کام ، حقیقی وارثین کی نشاندہی ممکن

تلنگانہ میں اراضی سروے کا تاریخی کام ، حقیقی وارثین کی نشاندہی ممکن

لوک سبھا میں حصول اراضی ترمیمی بل پر مباحث ، ٹی آر ایس ایم پی جیتندر ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔20۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ جتیندر ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے اراضی سروے کا تاریخی کام شروع کیا ہے ۔ لوک سبھا میں اراضی حصول ترمیمی بل پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے جتیندر ریڈی نے کہا کہ 1938 ء کے بعد تلنگانہ میں پہلی مرتبہ اراضی سروے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ سابق میں کسی بھی حکومت نے اس طرح کا سروے نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں تقریباً 11000 مواضعات میں اراضی سروے کا کام جاری ہے۔ اس سروے کا مقصد اراضیات کی نشاندہی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بھلائی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس سروے کا اہتمام کیا گیا ۔ سروے کی بنیاد پر کسانوں کو پاس بک جاری کئے جارہے ہیں۔ جتیندر ریڈی نے کہا کہ کسانوں کو ای پاس بک کی اجرائی عمل میں آرہی ہے جو ہر بے قاعدگی اور بد عنوانی سے محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضی سروے کا کام مکمل احتیاط کے ساتھ انجام دیا جارہا ہے ۔ سروے میں سرکاری اور دیگر اراضیات کا موقف واضح ہوجائے گا۔ مرکزی وزیر شہری ترقیات سے انہوں نے خواہش کی کہ وہ حیدرآباد کا دورہ کرتے ہوئے اراضی سروے کی تفصیلات حاصل کریں۔ کئی دہوں سے ایسی اراضیات جن پر کسی کی دعویداری نہیں تھی، اس سروے میں حقیقی وارثین کی نشاندہی ممکن ہے۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی کاموں کیلئے ملٹری اور ریلوے کی فاضل اراضیات حکومت کے حوالے کی جائیں ۔ ٹی آر ایس حکومت نے غریبوں کے لئے مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے اراضی کی ضرورت ہے۔ ملٹری اور ریلوے کی اراضیات کے حصول کے سلسلہ میں مرکز کو شرائط میں نرمی کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT