Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اردو زبان کی ترقی و فروغ کے اقدامات کا تیقن

تلنگانہ میں اردو زبان کی ترقی و فروغ کے اقدامات کا تیقن

زندہ دلانِ حیدرآباد کے کُل ہند مشاعرہ سے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا خطاب

زندہ دلانِ حیدرآباد کے کُل ہند مشاعرہ سے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا خطاب

حیدرآباد۔/19اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اردو زبان کی ترقی و فروغ کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ انہوں نے اردو کے شعراء کیلئے وظائف اور نوجوان شعراء کی حوصلہ افزائی کا اعلان کیا۔ جناب محمود علی کل رات زندہ دلانِ حیدرآباد کے کُل ہند مزاحیہ مشاعرہ سے خطاب کررہے تھے۔ زندہ دلانِ حیدرآباد کی دو روزہ تقاریب کا مزاحیہ مشاعرہ کے ساتھ اختتام عمل میں آیا جس کی صدارت جناب محمد علی رفعت ( آئی اے ایس) و رکن آندھرا پردیش پبلک سرویس کمیشن نے کی۔ بیرونی اور مقامی شعراء کی طنز و مزاح سے بھرپور شاعری کو شائقین نے خوب داد دی اور تلگو للت کلا تھورانم باغ عامہ کئی گھنٹوں تک قہقہوں سے گونجتا رہا۔ شائقین شعر و ادب بڑی تعداد میں مشاعرہ کی سماعت کیلئے شریک تھے۔ تقریباً 18 بیرونی اور مقامی شعراء نے کلام پیش کیا اور حالات حاضرہ و سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کی ترجمانی کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اردو زبان کسی علاقہ یا مذہب تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک آفاقی زبان بن چکی ہے۔ دنیا کے ہر گوشہ میں اردو کا بول بالا ہے اور اسے عوامی مقبول زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اردو کی مقبولیت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اردو گانے فلموں کی کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اردو زبان کی ترقی کی پابند ہے۔ ضعیف شعراء و ادیبوں کی مالی امداد کے طور پر حکومت انہیں وظائف دے گی جبکہ نوجوان شعراء کی انعامات کے ذریعہ حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے زندہ دلانِ حیدرآباد کی ان تقاریب کو آئندہ سال سے سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا اور کہا کہ تقاریب کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ محمود علی نے کہا کہ ٹی آر ایس سربراہ اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی فلاح و بہبود میں سنجیدہ ہیں اور حکومت کئی اسکیمات کے آغاز کا منصوبہ رکھتی ہے۔ حکومت نے نہ صرف اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیا بلکہ اس کے مکمل خرچ کو یقینی بنائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے مزاحیہ ادب کے فروغ میں زندہ دلان حیدرآباد کے رول کی ستائش کی اور اس کے ذمہ داروں کو مبارکباد پیش کی۔ نواب شاہ عالم خاں جو مہمان خصوصی تھی ناسازی مزاج کے سبب شرکت نہیں کرسکے۔ جناب منور پیر بھائی ( پونے ) عابدہ پیر بھائی اور پروفیسر ایس اے شکور سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی شہ نشین پر موجود تھے۔ مختار یوسفی ( مالیگاؤں) سنیل کمار تنگ ( بہار ) ابراہیم ساگر ( دھولیہ ) فرزانہ فرح ( بھٹکل ) کے علاوہ مقامی شعراء چچا پالموری، وحید پاشاہ قادری، فرید سحر، شاہد عدیلی کو کافی داد ملی جبکہ دیگر شعراء کے کلام کو بھی پسند کیا گیا۔جن دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان میں اسرار جامعی ( دہلی) ظہیر قدسی ( مالیگاؤں ) مسرور شاہجہاں پوری ( لکھنو) واحد انصاری ( برہانپور) سراج کولہا پوری (ممبئی) کے علاوہ اقبال شانہ، غوث خواہ مخواہ، سردار اثر اور دوسروں نے اپنے کلام سے محفل کوزعفران زار بنایا۔ جناب محمد علی رفعت نے آخر میں صدارتی مزاحیہ قطعات پیش کئے۔ اشفاق اصفی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اس موقع پر ٹکٹ حاصل کرنے والے افراد کی قرعہ اندازی کرتے ہوئے محمد منیر الدین ( عادل آباد ) کو عمرہ ٹکٹ دیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT