Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اردو میڈیم و امدادی مدارس کیلئے نئی اسکیم کو منظوری

تلنگانہ میں اردو میڈیم و امدادی مدارس کیلئے نئی اسکیم کو منظوری

ورنگل ضمنی چناؤ نتیجہ کے بعد اعلان ، اسکیم کی رقم میں اضافہ کے لیے ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت
حیدرآباد۔/20نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اردو میڈیم سرکاری اور امدادی مدارس میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے نئی اسکیم کو منظوری دی ہے تاہم اس کا اعلان ورنگل لوک سبھا حلقہ کے ضمنی چناؤ کے نتیجہ کے بعد کیا جائے گا کیونکہ نتیجہ کے اعلان تک انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اردو میڈیم سرکاری اور امدادی مدارس میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کیلئے تلنگانہ اردو اکیڈیمی سے 250اسکولوں کی نشاندہی کی جائے گی اور انہیں فی کس 50ہزار روپئے بطور امداد جاری کئے جائیں گے۔ سابق میں اس اسکیم کے تحت 25ہزار روپئے تک جاری کئے جاتے تھے تاہم ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس میں اس رقم کو دوگنا کرنے کی ہدایت دی۔ سرکاری اور امدادی اردو میڈیم مدارس کی ابتر صورتحال کے بارے میں شہر اور اضلاع سے حکومت کو کئی نمائندگیاں وصول ہوچکی ہیں اور ان مدارس میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعہ مدارس کا تحفظ حکومت کا مقصد ہے۔ ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے اسکیم کے شرائط و ضوابط کو قطعیت دے دی ہے اور ورنگل کے نتیجہ کے فوری بعد باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا جائے گا۔ ریاست بھر سے درخواستیں طلب کی جائیں گی اور مستحق مدارس کی نشاندہی کرتے ہوئے رقم جاری کی جائے گی۔ سرکاری اردو میڈیم مدارس میں فرنیچر کی  کمی کے علاوہ صاف پینے کے پانی اور بیت الخلاء نہ ہونے کی بیشتر شکایات ملی ہیں جس سے طالبات کو کافی دشواریوں کا سامنا ہے۔ کئی مدارس ایسے ہیں جہاں اساتذہ کیلئے بھی ٹائیلٹ کی سہولت موجود نہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بعد سرکاری اردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کیا ہے اور تقررات کے مرحلہ کی تکمیل تک اسکول اسسٹنٹ اور ودیا والینٹرس کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اردو میڈیم سرکاری و امدادی مدارس کے معیار میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ اردو میڈیم ذریعہ تعلیم کو عام کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اردو میڈیم مدارس میں طلبہ کے داخلوں کے سلسلہ میں عوام میں شعور بیدار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی کثیر آبادی والے علاقوں میں موجود اردو میڈیم مدارس کا بہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT