Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں اظہرالدین پر قسمت آزمانے کانگریس کی تیاری

تلنگانہ میں اظہرالدین پر قسمت آزمانے کانگریس کی تیاری

سابق کرکٹ کپتان کو پی سی سی سربراہ بنانے پر سنجیدگی سے غور، حصول اقتدار کی حکمت عملی
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد۔ 14 جولائی ۔کانگریس پارٹی تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین پر قسمت آزمانے کے معاملہ میں سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ راہول گاندھی کے سیاسی مشیر پرشانت کشور نے کانگریس کی تنظیم جدید کے موقع پر محمد اظہرالدین کو تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کا سربراہ بنانے کا پارٹی ہائی کمان کو مشورہ دیا ہے۔ محمد اظہرالدین نے پارٹی ہائی کمان کے ہر فیصلے کو قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ قومی سطح پر کانگریس پارٹی میں تنظیم جدید کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کے سیاسی مشیر پرشانت کشور کے مشورے پر راج ببر کو اترپردیش کانگریس کمیٹی کا صدر نامزد کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس پارٹی ملک کی جن ریاستوں میں اقتدار سے محروم ہوئی ہے اُن ریاستوں میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے ابھی سے حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ تلنگانہ میں عام انتخابات میں ٹی آر ایس اور مجلس کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام مذاہب اور طبقات کے لئے قابل قبول اور پُرکشش شخصیت رکھنے والے چہرے کو منظر عام پر لانے کی تیاری کررہی ہے۔ تلنگانہ کے عوامی مقبول اور گلیمر شخصیتوں اور قائدین کے نام دہلی پہونچ چکے ہیں۔ اُن شخصیتوں کی خدمات، کارکردگی اور مقبولیت کی بنیاد پر فہرست تیار کی گئی ہے۔ فہرست میں مسلم چہروں میں محمد اظہرالدین، قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر، اعلیٰ طبقات میں سابق وزیر مسز ڈی کے ارونا، فلم اسٹار سے سیاستداں بن جانے والی سابق رکن پارلیمنٹ وجئے شانتی، ایس سی طبقات میں ورکنگ پریسڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر ملوبٹی وکرامارک، سابق وزیر ڈاکٹر جے گیتاریڈی کے علاوہ ریڈی اور بی سی طبقات کے چند نام فہرست میں شامل ہیں۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے جی توڑ کوشش کررہے ہیں۔ تاہم کانگریس کے منتخب عوامی نمائندوں کی حکمراں ٹی آر ایس میں شمولیت اور ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست کے بعد تلنگانہ کے چند قائدین ان کے خلاف دہلی میں مہم چلاتے ہوئے انھیں تبدیل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دے کر پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں بھاری نقصان اٹھانے والی کانگریس پارٹی نے آئندہ تلنگانہ میں حصول اقتدار کے لئے ابھی سے ایڑی چوڑی کا زور لگارہی ہے اور نئے نئے تجربات کرتے ہوئے عوام میں کھویا ہوا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس اور مجلس کے اتحاد کا توڑ دریافت کرنے میں مصروف ہے۔ تلنگانہ میں اقلیتوں کا تناسب 23 فیصد ہے اور اقلیتیں کسی بھی جماعت کو اقتدار حوالے کرنے اور اقتدار سے بے دخل کرنے میں اہم رول ادا کرسکتی ہیں۔ 2014 ء کے عام انتخابات میں ٹی آر ایس نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات اقتدار حاصل کرنے کے اندرون 4 ماہ دینے کا وعدہ کیا تھا جس پر عمل آوری نہ کرنے سے مسلمانوں میں حکومت کے خلاف ناراضگی ہے اور اِس پر مجلس کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے مسلم مقبول عام شخصیتوں میں محمد اظہرالدین کی پُرکشش شخصیت سے فائدہ اٹھانے پر غور کیا جارہا ہے۔ جب اس سلسلہ میں روزنامہ سیاست نے سابق ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد اظہرالدین سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ محمد اظہرالدین نے بتایا کہ وہ اس تجویز سے لاعلم ہیں۔ سونیا گاندھی، راہول گاندھی یا پرشانت کشور نے اس سلسلہ میں ان سے کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ صرف میڈیا کے ذریعہ انھیں اس قسم کی اطلاعات وصول ہورہی ہیں۔ اگر انھیں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت کا پیشکش کیا جاتا ہے تو وہ اس کو قبول کریں گے۔ محمد اظہرالدین نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ وہ پارٹی کے وفادار سپاہی ہیں۔ پارٹی نے انھیں اترپردیش سے ٹکٹ دیا تو وہ مقابلہ کرچکے ہیں۔ 2014 ء میں انھیں راجستھان سے مقابلہ کرنے کی ہدایت دی گئی وہ اس کو قبول کرچکے ہیں۔ کانگریس پارٹی ان کی خدمات جس طرح سے استعمال کرنا چاہے وہ اس کیلئے تیار ہیں۔ پارٹی انھیں جو بھی حکم دے گی وہ اُس پر عمل کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT