Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اعلیٰ اور اسکولی تعلیم کو تباہ کیا جارہا ہے، تلگو دیشم لیڈر کرشنیا کا بیان

تلنگانہ میں اعلیٰ اور اسکولی تعلیم کو تباہ کیا جارہا ہے، تلگو دیشم لیڈر کرشنیا کا بیان

حیدرآباد ۔ 12 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : گورنر ریاست تلنگانہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن کو ایک ویژن ہونا چاہئے تھا لیکن گذشتہ دن تلنگانہ قانون ساز اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس میں دئیے گئے اپنے خطبہ میں ریاست کی ترقی وغیرہ کے سلسلہ میں کوئی نیا ویژن ہی نہیں دکھائی دیا بلکہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے تحریر کر کے فراہم کردہ تقریر کو ہی ایوان میں پڑھ کر سنایا ۔ آج یہاں تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں گورنر خطبہ پر تحریک تشکر کے جاری مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر آر کرشنیا رکن اسمبلی تلگو دیشم پارٹی نے مذکورہ بات کہی اور بتایا کہ ریاست میں شعبہ اعلیٰ تعلیم و اسکولی تعلیم کو تباہ کیا جارہا ہے ۔ گذشتہ تین سال سے تلنگانہ کی تاریخی اہمیت کی حامل عثمانیہ یونیورسٹی بلکہ تلنگانہ اضلاع کی مختلف یونیورسٹیوں میں تقریبا تین سال سے کوئی وائس چانسلر نہیں ہے اور حکومت تلنگانہ بھی اس مسئلہ پر اپنی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ سے دریافت کیا کہ آیا ریاست تلنگانہ میں واقع یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کا تقرر کرنے کے علاوہ ریاست میں اساتذہ کے تقررات عمل میں لانے میں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ مسٹر آر کرشنیا نے تلنگانہ حکومت کو اس مسئلہ پر اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور حکومت بالخصوص چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے جنگی خطوط پر وائس چانسلروں کی تمام مخلوعہ جائیدادوں کے ساتھ اساتذہ کی ہزاروں مخلوعہ جائیداد پر تقررات عمل میں لانے کا پر زور مطالبہ کیا ۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا ایوان میں تذکرہ کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا موجودہ تحفظات کے علاوہ حکومت تلنگانہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کس طرح فراہم کرے گی ۔ اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ رکن اسمبلی تلگو دیشم پارٹی نے ریاست کے تمام اضلاع میں طلباء کو واجب الادا فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس رقومات فی الفور فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر کہیں کسی کالج میں فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس سے متعلق رقومات کے حصول میں بے قاعدگیاں پائی گئیں ہو تو اس کو دور کرنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے پسماندہ طبقات کے تحفظات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کی آبادی 52 فیصد پائی جاتی ہے اور پسماندہ طبقات کو ان کی آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم نہیں کئے گئے ۔ لہذا پارلیمنٹ میں پسماندہ طبقات کو 50 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے کی کوشش کرنے کے اقدامات کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT