Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اقتدار پر آنے بی جے پی کا دعویٰ ، دن میں خواب دیکھنے کے مترادف

تلنگانہ میں اقتدار پر آنے بی جے پی کا دعویٰ ، دن میں خواب دیکھنے کے مترادف

رام مادھو کا بیان لا علمی کا مظہر ، ٹی آر ایس قائدین کی بی جے پی میں شمولیت کی تردید
حیدرآباد ۔ 19۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے بی جے پی کے ریاست میں برسر اقتدار آنے کے دعویٰ کو دن میں خواب دیکھنے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی اپنے وجود کی برقراری کی جدوجہد کر رہی ہے اور ایسی پارٹی میں ٹی آر ایس قائدین کی شمولیت کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔ پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے ریمارک کیا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے دفتر پر ٹولیٹ کا بورڈ آویزاں ہے اور ایسی پارٹی ریاست میں اقتدار کا خواب دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے حیدرآباد کے دورہ کے موقع پر جو بیان دیا ہے ، وہ ان کی لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے ۔ تلنگانہ کے صورتحال سے واقفیت کے بغیر ہی رام مادھو بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں۔ پربھاکر نے کہا کہ ٹی آر ایس قائدین کی بی جے پی میں شمولیت کی اطلاع بے بنیاد ہے اور آئندہ انتخابات میں بی جے پی کا تلنگانہ سے مکمل صفایا ہوجائے گا۔ پربھاکر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کرنے سے قبل رام مادھو کو حکومت کی کارکردگی کے بارے میں مرکزی قائدین کی رائے معلوم کرنی چاہئے ۔ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کی اسکیمات کا انہیں تقابل کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ رام مادھو ریاستی حکومت کی اسکیمات سے لاعلم ہے اور وہ اپنی تنقیدوں کے ذریعہ عوام میں مذاق کا موضوع بن چکے ہیں۔ پربھاکر نے کہا کہ آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے رام مادھو کو اپنی ریاست میں بی جے پی کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے ، لہذا وہ پڑوسی ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کے وجود کی برقراری کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی کارکردگی اور اسکیمات کی وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ تمام مرکزی وزراء نے تعریف کی لیکن رام مادھو اس حقیقت سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشن بھگیرتا اسکیم کے آغاز کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے اس اسکیم کو ملک کیلئے مثالی قرار دیا تھا ۔ وزیراعظم نے کہا تھا جب کبھی کے سی آر مجھ سے ملاقات کرتے ہیں ، وہ ریاست کی ترقی اور آبپاشی اسکیمات کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ کئی مرکزی وزراء نے مشن کاکتیہ اور مشن بھگیرتا اسکیمات کی ستائش کی ۔ مرکزی وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشن بھگیرتا اسکیم کی ستائش کی تھی ۔ مشن کاکتیہ اسکیم کی اوما بھارتی نے تعریف کی۔ منیکا گاندھی نے تلنگانہ میں شروع کئے گئے اقامتی اسکولوں کو ملک کیلئے مثالی قرار دیا ہے۔ پربھاکرنے بتاے کہ تین دن قبل ہی وزیراعظم نریندر مودی نے کے ٹی راما راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سوچھ تلنگانہ پروگرام پر حکومت کی جانب سے موثر عمل آوری کی ستائش کی ۔ پربھاکر نے کہا کہ بی جے پی قائدین نے کئی مرتبہ اعلان کیا کہ امیت شاہ ، راج ناتھ سنگھ اور دیگر قومی قائدین کے دورہ کے موقع پر دوسری جماعتوں سے تعلق ر کھنے والے قائدین بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گے ۔ مذکورہ قائدین دو سے تین مرتبہ تلنگانہ کا دورہ کرچکے ہیں لیکن ایک بھی قائد بی جے پی میں شامل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ رام مادھو نے یہ کہتے ہوئے کہ بی جے پی میں بہتر اور اچھے قائدین کی شمولیت کے خواہاں ہیں، اس بات کو تسلیم کرلیا کہ فی الوقت پارٹی میں اچھے قائدین کی کمی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو ڈوبتی کشتی سے تعبیر کیا اور کہا کہ کوئی بھی ایسی کشتی میں سوار ہونا نہیں چاہے گا ۔ مرکزی حکومت نے اقتدار کے 100 دنوں میں کالا دھن ملک میں واپس لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ پربھاکر نے کہا کہ تلنگانہ میں کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت عوام کی توقعات اور امنگوں کے مطابق کام کر رہی ہے اور آئندہ انتخابات میں پارٹی کی دوبارہ کامیابی کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔

TOPPOPULARRECENT