Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اقلیتوں کی ترقی میں کے سی آر کی دلچسپی پر اقلیتوں کی ٹی آر ایس سے وابستگی

تلنگانہ میں اقلیتوں کی ترقی میں کے سی آر کی دلچسپی پر اقلیتوں کی ٹی آر ایس سے وابستگی

رکنیت سازی میں اقلیتی طبقہ کا جوش و خروش ، اکبر حسین رکن اسٹیرنگ کمیٹی کا ادعا

رکنیت سازی میں اقلیتی طبقہ کا جوش و خروش ، اکبر حسین رکن اسٹیرنگ کمیٹی کا ادعا
حیدرآباد۔/13فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی رکنیت سازی میں اقلیتی طبقہ کی جانب سے غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل اور اقلیتوںکی ترقی میں چندر شیکھر راؤ حکومت کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اقلیتیں ٹی آر ایس سے وابستہ ہورہی ہیں۔ رکنیت سازی کے سلسلہ میں ریاستی سطح پر تشکیل دی گئی اسٹیرنگ کمیٹی کے رکن اور ٹی آر ایس قائد سید اکبر حسین نے یہ دعویٰ کیا۔ سید اکبر حسین کا تعلق کریم نگر ضلع سے ہے اور وہ ٹی آر ایس کے قیام سے ہی پارٹی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ضلع میں پارٹی کے کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دی اور ان کا شمار کے سی آر کے بااعتماد رفقاء میں ہوتا ہے۔ سید اکبر حسین فی الوقت کریم نگر اقلیتی شعبہ کے ضلعی صدر ہیں انہیں پارٹی کی رکنیت سازی کے سلسلہ میں تشکیل دی گئی 10رکنی اسٹیرنگ کمیٹی میں شامل کیا گیا جو ریاستی سطح پر اقلیتوں کی واحد نمائندگی ہے۔ سید اکبر حسین کو اقلیتوں کی رکنیت سازی کے علاوہ ضلع عادل آباد کا انچارج مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اسٹیرنگ کمیٹی میں شمولیت پر چیف منسٹر سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں کافی سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کی بھلائی کے سلسلہ میں جو وعدے کئے تھے ان پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ سید اکبر حسین نے کہا کہ تلنگانہ کے تمام 10اضلاع میں رکنیت سازی میں ابھی تک 35لاکھ سے زائد نام درج ہوچکے ہیں اور 20فبروری تک رکنیت سازی کی تعداد 50لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کو ٹی آر ایس پر مکمل بھروسہ ہے یہی وجہ ہے کہ عوام ٹی آر ایس سے قریب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں تلنگانہ میں کسی اور پارٹی کیلئے جگہ نہیں ہوگی۔ اکبر حسین نے اقلیتوں کی رکنیت سازی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں اقلیتوں کی ٹی آر ایس سے وابستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی آر ایس اقلیت دوست جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند برسوں میں کانگریس اور تلگودیشم کو کارکنوں کی تلاش کرنی پڑے گی۔

TOPPOPULARRECENT