تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کے اہم دو اسکیمات پر عدم عمل آوری

ہزارہا افراد استفادہ سے محروم ، رہنمایانہ خطوط کی عدم اجرائی

ہزارہا افراد استفادہ سے محروم ، رہنمایانہ خطوط کی عدم اجرائی
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی بہبود سے متعلق دو اہم اسکیمات پر جاریہ سال عمل آوری نہیں کی جاسکی جس کے باعث ہزاروں افراد اسکیمات کے فوائد سے محروم ہوگئے۔ بینکوں کے قرض سے مربوط سبسیڈی فراہمی اسکیم اور ٹریننگ اور ایمپلائیمنٹ اسکیم پر جاریہ سال رہنمایانہ خطوط کی عدم اجرائی کے سبب عمل نہیں کیا جاسکا۔ دوسری طرف اقلیتی فینانس کارپوریشن مذکورہ دونوں اسکیمات کے 2013-14 ء کے منتخب امیدواروں کو رقومات کی منظوری میں مصروف ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2013-14 ء کیلئے سبسیڈی کی اجرائی سے متعلق اسکیم پر عمل آوری کیلئے حکومت نے نئے احکامات جاری کئے جس میں 3779 منظورہ درخواستوں کی دوبارہ جانچ کی ہدایت دی گئی۔ ضلع کلکٹرس نے تاحال 2931 درخواستوں کو دوبارہ منظوری دی ہے جن میں 2187 امیدواروں کو سبسیڈی کی رقم جاری کی گئی جبکہ 238 درخواستیں ضلعی سطح پر زیر التواء ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے سبسیڈی کی اجرائی کا کام 7 مارچ تک مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بینکوں کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت پر حکام نے بینکرس کمیٹی سے مسئلہ کو رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2013-14 ء کے تحت تلنگانہ کے 10 اضلاع میں 3779 امیدواروں کو 18 کروڑ 60 لاکھ روپئے بطور سبسیڈی جاری کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا۔ 2931 درخواستوں کو ضلع کلکٹرس کی جانب سے منظوری حاصل ہوئی جن میں ابھی تک 2187 درخواست گزاروں کو 11 کروڑ 61 لاکھ 61 ہزار روپئے بطور سبسیڈی جاری کردیئے گئے۔ 96 لاکھ 16 ہزار روپئے کی اجرائی ابھی باقی ہے۔ ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت 2013-14 ء کے بقایہ جات ابھی تک جاری نہیں کئے گئے ۔ اس اسکیم کے تحت 8453 امیدواروں کو ٹریننگ کا منصوبہ بنایا گیا تھا جن میں سے 3731 امیدواروں کو ٹریننگ دی گئی جس کیلئے مختلف اداروں کو ایک کروڑ 97 لاکھ 43 ہزار کی اجرائی باقی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت ابھی تک صرف 9 لاکھ 33 ہزار جاری کئے گئے ۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش میں سرکاری ادارے اپٹکو نے مختلف شعبوں میں اقلیتی طلبہ کیلئے ٹریننگ کا اہتمام کیا تھا لیکن ابھی تک فینانس کارپوریشن کی جانب سے رقم جاری نہیں کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT