Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کے دعوے ، مکہ مسجد عدم توجہ کا شکار

تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کے دعوے ، مکہ مسجد عدم توجہ کا شکار

حیدرآباد۔/18ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اقلیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن تاریخی مکہ مسجد ابھی بھی محکمہ اقلیتی بہبود کی عدم توجہ کا شکار ہے جس کے باعث نہ صرف مسجد کے انتظامات متاثر ہورہے ہیں بلکہ مسجد کے تقدس اور سیکورٹی کو مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے مسجد کے انتظامات کی نگرانی کیلئے مس

حیدرآباد۔/18ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اقلیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن تاریخی مکہ مسجد ابھی بھی محکمہ اقلیتی بہبود کی عدم توجہ کا شکار ہے جس کے باعث نہ صرف مسجد کے انتظامات متاثر ہورہے ہیں بلکہ مسجد کے تقدس اور سیکورٹی کو مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے مسجد کے انتظامات کی نگرانی کیلئے مستقل عہدیدار نہیں ہیں اور بارہا توجہ دہانی کے باوجود اعلیٰ عہدیداروں نے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ مکہ مسجد کے لئے حکومت کی جانب سے ہر سال بجٹ منظور کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ چار ماہ سے بجٹ جاری نہیں کیا گیا جس کے باعث ضلع کلکٹر حیدرآباد دوسرے بجٹ سے تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بجٹ کی عدم اجرائی کا یہی حال رہا تو ملازمین آئندہ ماہ تنخواہوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔ مکہ مسجد کے انتظامات میں بے قاعدگیوں کو دور کرنے کیلئے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ ریٹائرڈ پولیس عہدیدار کو نگرانکار کے طور پر مقرر کیا جائے

اور انتظامی اُمور کی نگرانی کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے لیکن حکومت نے اس تجویز پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتیجہ میں مسجد کے انتظامات متاثر ہورہے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں مسجد کے سپرنٹنڈنٹ کی میعاد میں توسیع کی اور تنخواہ میں بھاری اضافہ کرتے ہوئے پابند کیا تھا کہ وہ مکہ مسجد کے انتظامات پر توجہ دیں اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد میں فرائض کی انجام دہی ترک کردیں۔ ان واضح احکامات کے باوجود سپرنٹنڈنٹ جو محکمہ کے ریٹائرڈ عہدیدار ہیں ساری توجہ ڈی ایم ڈبلیو آفس کے اُمور کی انجام دہی میں صرف کررہے ہیں۔ مصلیان مسجد نے شکایت کی کہ سپرنٹنڈنٹ مہینہ میں بمشکل چند دن مکہ مسجد کا رُخ کرتے ہیں اور عام دنوں میں وہ مسجد سے متعلق اُمور کی تکمیل کا بہانہ بناکر حج ہاوز میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کو ہدایت دی تھی کہ وہ سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد کو ان کے دفتر میں کام کرنے کیلئے مجبور نہ کریں اس کے باوجود سپرنٹنڈنٹ مسجد کے فرائض سے بے پرواہ ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاکر ملازمین بھی من مانی کررہے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دن اور شام کے اوقات میں چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو مسجد کے اندرونی حصہ میں اشیائے خوردو نوش فروخت کرنے کی اجازت دی جارہی ہے جس سے مسجد کے صحن میں کچرا اور گندگی پھیل رہی ہے۔ شام کے اوقات میں سیاحوں کو مقررہ وقت کے بعد بھی مسجد میں داخلہ کی اجازت دیتے ہوئے ان سے رقومات حاصل کرنے کی بھی شکایات ملی ہیں۔ مکہ مسجد کے ملازمین بشمول موذن پر حاضری کیلئے کوئی پابندی نہیں جس کے باعث وہ روزانہ ڈیوٹی پر حاضر نہیں رہتے اور شاذ و نادر ہی مسجد میں دکھائی دیتے ہیں۔ مسجد کے عملے کی اس لاپرواہی کے سبب مسجد کے تقدس اور سیکورٹی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اسی دوران ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر نے مسجد کے ان معاملات پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ کے ایک عہدیدار کے ذریعہ اچانک جانچ کروائی جائے گی اور ڈیوٹی سے غفلت برتنے والوں کی نشاندہی ہوگی۔ واضح رہے کہ خود ڈائرکٹر اقلیتی بہبود بھی سابق میں اچانک مسجد کا دورہ کرچکے ہیں جس کے بعد ملازمین کی حاضری میں کسی قدر باقاعدگی دیکھی گئی لیکن اب صورتحال دوبارہ ابتر ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT