Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اقلیتی ووٹ کے لیے کے سی آر کا بیان گمراہ کن

تلنگانہ میں اقلیتی ووٹ کے لیے کے سی آر کا بیان گمراہ کن

صدر ٹی آر ایس ماضی کے وعدوں سے مکر گئے ، محمد علی شبیر کا بیان

صدر ٹی آر ایس ماضی کے وعدوں سے مکر گئے ، محمد علی شبیر کا بیان

حیدرآباد ۔ 14 ۔ اپریل (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے صدر ٹی آر ایس چندر شیکھر راؤ کے اس اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ وہ انتخابی نتائج کے بعد این ڈی اے اور یو پی اے سے کوئی اتحاد نہیں کرے گی۔ پارٹی کی انتخابی مہم کمیٹی کے معاون صدرنشین محمد علی شبیر نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ دراصل تلنگانہ میں اقلیتی رائے دہندوںکی تائید حاصل کرنے اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چندر شیکھر راو کی بی جے پی سے قربت کی کوششوں کو عوام اچھی طرح جانتے ہیں اور اقلیتیں کے سی آر کے دھوکہ میں آنے والی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران چندر شیکھر راؤ نے اقلیتوں کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مناسب نمائندگی اور دلت کو چیف منسٹر اور مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن علحدہ ریاست کی تشکیل کے ساتھ ہی وہ اپنے وعدوں سے منحرف ہوگئے ۔ چندر شیکھر راؤ خود چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ میں لوک سبھا اور اسمبلی کی نشستوں میں اقلیتوں کو ایسے علاقوں سے ٹکٹ دیا ہے جہاں ان کی کامیابی کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ پرانے شہر کے حلقوں کے علاوہ سکندرآباد اور کھمم لوک سبھا حلقہ سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دے کر کے سی آر اقلیتوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں لوک سبھا حلقوں میں ٹی آر ایس کا موقف انتہائی کمزور ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس سربراہ نے بی جے پی سے انتخابی مفاہمت کی کوشش کی اور اپنے دو قریبی ساتھیوں جتیندر ریڈی اور ونود کمار کو بی جے پی قیادت سے بات چیت کیلئے نئی دہلی روانہ کیا تھا ۔ کیا چندر شیکھر راؤ اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ ان کے نمائندوں نے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ تلگو دیشم سے مفاہمت کے فیصلہ کے باعث بی جے پی کی ٹی آر ایس سے مفاہمت نہیں ہوسکی۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ خود بی جے پی سینئر قائد وینکیا نائیڈو نے انکشاف کیا کہ ٹی آر ایس قائدین نے ملاقات کی تھی لیکن ٹی آر ایس نے آج وینکیا نائیڈو کے اس بیان کی تردید نہیں کی۔ دراصل کے سی آر کو بی جے پی سے مفاہمت کا موقع نہیں ملا ورنہ آج تلگو دیشم کے بجائے وہ بی جے پی سے مفاہمت کرتے۔ انہوں نے کانگریس زیر قیادت یو پی اے کو بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کے ساتھ جوڑنے کو افسوسناک قرار دیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کی صدر سونیا گاندھی کے سبب تلنگانہ ریاست حاصل ہوئی ہے جس کا اعتراف چندر شیکھر راؤ نے ارکان خاندان کے ساتھ سونیا گاندھی سے ملاقات کے ذریعہ کیا لیکن اب ان کی نظریں تلنگانہ کی کرسی پر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT