Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں الیکشن بجٹ کی تیاریاں

تلنگانہ میں الیکشن بجٹ کی تیاریاں

ایک لاکھ 80 ہزار کروڑ کی تجاویز، فلاحی اسکیمات پر زائد رقومات کا منصوبہ
حیدرآباد۔9۔جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے بجٹ 2018-19 ء کی تیاری کا مرحلہ تقریباً مکمل کرلیا ہے۔ ایک لاکھ 80 ہزار کروڑ پر مشتمل بجٹ تجاویز کو قطعیت دی جارہی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ 2019 ء میں عام انتخابات کے پیش نظر حکومت فلاحی اسکیمات کیلئے زائد رقومات مختص کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ فلاحی اسکیمات اور زرعی شعبہ سے متعلق بجٹ میں اضافہ کے علاوہ مشن کاکتیہ اور مشن بھگیرتا پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ بجٹ کا انحصار مختلف ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی پر رہے گا اور جاریہ سال آمدنی میں 19 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ایکسائیز کے بشمول ڈسمبر 2017-18 ء تک ریاستی خزانہ کو 29,811 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ مختلف محکمہ جات کی جانب سے بجٹ تجاویز آن لائین پیش کردی گئی ہے۔ بجٹ پر مزید غور و خوض کیلئے 15 جنوری کی مہلت مقرر کی گئی ہے تاکہ محکمہ جات اپنے ترمیمی تجاویز داخل کرسکے۔ مختلف محکمہ جات میں اپنی ابتدائی بجٹ تجاویز حکومت کو داخل کردی ہے۔ محکمہ جات کے علاوہ کارپوریشنوں ، یونیورسٹیز اور دیگر اداروں سے بھی تجاویز طلب کی گئی ہے۔ حکومت نے بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور انہیں دی جانے والی دیگر مراعات کو بھی پیش نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر کی ہدایت کے مطابق آئندہ مالیاتی سال وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے ملازمین کی تفصیلات طلب کی گئی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ گزشتہ مالیاتی سال ریاستی خزانہ کو 24,977 کروڑ کی آمدنی مختلف ٹیکسس ، جی ایس ٹی اور مرکزی حکومت کی امداد میں حصہ داری سے ہوا تھا جبکہ جاریہ سال اس آمدنی میں حوصلہ افزاء اضافہ ہوا ہے ۔ ویاٹ کے ذریعہ 19,404 کروڑ اکسائیز ڈیوٹی سے 2828 کروڑ ، ایس جی ایس ٹی سے 735 کروڑ ، آئی جی ایس ٹی سے 768 کروڑ اور مرکز سے مختلف معاوضہ کے تحت 169 کروڑ حاصل ہوئے تھے۔ بجٹ میں انتخابات کے پیش نظر اضافہ کے ساتھ ساتھ خسارہ کو کم کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ 15 ویں فینانس کمیشن کو پیش کی جانے والی رپورٹ کی تیاریوں میں عہدیدار مصروف ہیں۔ انتخابات کے پیش نظر عوام کو خوش کرنے کیلئے فلاحی اسکیمات کا بجٹ 50,000 کروڑ تک کیا جاسکتا ہے جو جاریہ سال 40,000 کروڑ تھا ۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتوں کے علاوہ دیگر ایسے طبقات کی نشاندہی کی جارہی ہے جو معاشی طور پر پسماندہ ہیں، انہیں بھی فلاحی اسکیمات کے فوائد پہنچائے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی سی طبقات ریاست کی آبادی کا 52 فیصد ہے اور حکومت ان میں زیادہ سے زیادہ افراد کو اسکیمات کے تحت شامل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بی سی سب پلان کو قطعیت دینے کیلئے کابینی سب کمیٹی رپورٹ کی تیاری میں مصروف ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیمات کیلئے 1500 کروڑ مختص کئے جائیں گے۔ ضعیفوں ، بے سہارا خواتین ، بیواؤں اور معذورین کے وظائف کیلئے 8000 کروڑ مختص کئے جاسکتے ہیں۔ زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہی کیلئے 5000 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی کی اسکیمات پر 3000 کروڑ خرچ کئے جاسکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT