Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں آج سے اسکولس کی کشادگی

تلنگانہ میں آج سے اسکولس کی کشادگی

نئے تعلیمی سال کا آغاز، طلبہ اور اولیائے طلبہ کی بھاگ دوڑ
حیدرآباد۔11جون(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں 12جون سے تمام اسکولوں کی کشادگی عمل میں لائی جائے گی اور سرکاری ‘ نیم سرکاری اور خانگی اسکولوں میں نئے تعلیمی سال 2017-18کا باضابطہ آغاز ہوجائے گا ۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام سرکاری اسکولوں اور خانگی اسکولوں کی کشادگی کی تاریخ 12جون مقرر کی گئی ہے لیکن بعض اسکول 14جون سے بھی شروع ہونے جا رہے ہیں اور ان اسکول انتظامیہ کا استدلال ہے کہ انہیں حاصل اختیار کے سبب وہ اپنے اداروں کو 14جون سے شروع کر رہے ہیں۔ تلنگانہ میں تعلیمی سال 2017-18کے آغاز کے ساتھ ہی سرکاری اسکولوں میں درسی کتب اور تعلیمی کٹس کی تقسیم عمل میں لائی جائے گی ۔ اسی طرح محکمہ تعلیم نے تمام سرکاری اسکولوں کے ذمہ داروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اسکولو ںمیں طلبہ کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں کوتاہی نہ کریں ۔ محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جاریہ تعلیمی سال سے ریاستی حکومت شعبہ تعلیم میں کسی قسم کی بدنظمی و بدعنوانی کو برداشت نہیں کرے گی اور غیر معیاری تعلیم کی صورت میں ان اداروں کے خلاف کاروائی بھی کی جائے گی جو تعلیمی معیار پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ریاست تلنگانہ میں اسکولوں کی کشادگی کے ساتھ ہی درسی کتب اور اسٹیشنری کی خرید و فروخت میں اضافہ دیکھا جاتا ہے اور خانگی اسکولوں میں ان اشیاء کی فروخت کے کاؤنٹر لگائے جاتے ہیں لیکن محکمہ تعلیم نے اسکولوں میں درسی کتب اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو ممنوعہ قرار دیا ہے اسی لئے اگر کسی اسکول میں درسی کتب یا اسٹیشنری کی خریدی کیلئے طلبہ یا اولیائے طلبہ کو مجبور کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اولیائے طلبہ و سرپرست ڈی ای او اور ڈپٹی ڈی ای او کے دفتر سے رجوع ہوتے ہوئے شکایات درج کرواسکتے ہیں ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے بتایا کہ اسکولوں میں اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف خود اولیائے طلبہ و سرپرست باشعور ہوچکے ہیں اور وہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے بجائے محکمہ پولیس سے رجوع ہوتے ہوئے اسکول انتظامیہ پر جبری وصولی اور دھوکہ دہی جیسے دفعات کے تحت مقدمات درج کروانے لگے ہیں جو کہ اولیائے طلبہ میں شعور کی علامت ہے۔محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں سے خواہش کی کہ وہ کسی بھی ایسی حرکت کے مرتکب نہ بنیں جس کے سبب تعلیم کی فراہمی کا یہ معتبر پیشہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز نظر آئے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقہ کے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے فون نمبرات کو اسکول کے دفتر کے قریب ایسی جگہ آویزاں کریں جہاں سب کی نظر پڑ سکے اور ضرورت پڑنے پر اولیائے طلبہ اور سرپرست شکایات درج کروا سکیں۔ دونوں شہرو ںمیں محکمہ ٹریفک پولیس‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ‘ آٹو ڈرائیورس یونین‘ اسکول انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی جانب سے 12جون کو اسکولوں کی کشادگی کے تمام امور مکمل کرلئے گئے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے دونوں شہروں کے مختلف مقامات پر اسکول جانے والے طلبہ کے خیر مقدم کا منصوبہ تیا رکیا گیا ہے جبکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے شہر کے سرکردہ اسکولوں کے علاوہ سرکاری اسکولوں کے قریب خصوصی صفائی مہم چلائی جائے گی۔ آٹو ڈرائیورس یونین نے اضافی بچوں کوآٹو میں سوار نہ کروانے کی ڈرائیورس کو تاکید کی ہے اور محکمہ تعلیم نے اسکولوں میں تجارتی سرگرمیوں کی اطلاعات پرکاروائی کے لئے خصوصی ٹیموں کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT