Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں ایمسٹ 2017 کا انعقاد ، تاخیر سے پہونچنے والے طلباء پریشان

تلنگانہ میں ایمسٹ 2017 کا انعقاد ، تاخیر سے پہونچنے والے طلباء پریشان

انجنئیرنگ ، اگریکلچر اور میڈیکل کیلئے جملہ 2,20,248 امیدواروں نے شرکت کی
حیدرآباد /12 مئی ( سیاست نیوز ) تلنگانہ بھر میں آج ایمسٹ 2017 کا انعقاد عمل میں آیا ۔ ایک منٹ کی تاخیر سے پہونچنے والے امیدواروں کو امتحان حال میں داخل نہ ہونے دینے کی شرط کے باعث کئی طلباء اور ان کے والدین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔ جمعہ کے باعث کئی امتحانی مراکز پر تاخیر سے پہونچنے والے طلباء کو امتحان حال میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔ شہر کے کئی مراکز پر امیدواروں اور ان کے والدین کو تاخیر سے پہونچنے کے بعد پریشان کن لمحات سے گذرنا پڑا کیونکہ یہ لوگ مقررہ داخلہ وقت سے قبل مرکز پر پہونچنے میں ناکام رہے ۔ کئی طلباء ان مراکز پر صبح 8.30 سے قبل ہی پہونچنا شروع ہوگئے تھے ۔ جبکہ امتحان کا وقت صبح 10 بجے مقرر تھا ۔ انجینئیرنگ کے طلباء کیلئے صبح 10 بجے سے ایک بجے تک امتحان لیا گیا جبکہ اگریکلچر ، فارمیسی اور اس سے مربوط گروپ کے طلباء کو 2.30 دوپہر سے شام 5.30 تک وقت دیا گیا تھا ۔ انجینئیرنگ کیلئے 1,41,190 امیدواروں نے اپنے نام درج کروائے تھے جبکہ 1,31,910 امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی جبکہ اگریکلچر اور فارمیسی کیلئے 79061 امیدواروں نے اپنے نام رجسٹر کروائے اور ان میں سے 73501 امیدواروں نے حصہ لیا ۔تلنگانہ اسٹیٹ کونسل برائے اعلی تعلیم کے چیرمین ٹی پاپی ریڈی نے پرچہ سوالات جاری کئے ۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے 2,20,248 امیدواروں نے تلنگانہ اسٹیٹ ایمسیٹ کیلئے اپنے نام رجسٹر کروائے تھے ۔ جواہر لال نہرو ٹیکنالوجیکل یونیورٹی حیدرآباد نے 27 علاقائی مراکز کے ساتھ 246 سنٹرس برائے انجینئیرنگ طلباء کیلئے قائم کئے تھے ۔ جبکہ اگریکلچر کیلئے 154 ٹسٹ سنٹرس قائم کئے گئے ۔ امتحان کے دوران بدعنوانیوں اور نقل نویسی کو روکنے کیلئے سخت نگرانی کی گئی تھی ۔ جن طلباء نے دستی گھڑیاں پہن رکھی تھی انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی ۔ جبکہ طلبا کو اپنے ساتھ کیلکولیٹرس ، کاغذات ، پیاڈس اور الکٹرانکس اشیاء ساتھ رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی ۔ وی رامیا نامی ایک طالب علم نے بتایا کہ ایک منٹ کی تاخیر سے پہونچنے والے طلباء کو روک دینے کا وصول ختم کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے طلباء کے اندر بے چینی پیدا ہو رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT