تلنگانہ میں برقی بحران سے صنعتی و زرعی سرگرمیاں ٹھپ

چیف منسٹر کے سی آر کو بیدار ہونے کا مشورہ، کانگریس قائد محمد علی شبیر کا بیان

چیف منسٹر کے سی آر کو بیدار ہونے کا مشورہ، کانگریس قائد محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد /16 جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی فلور لیڈر کونسل محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کو برقی بحران حل کرنے کا مشورہ دیا۔ آج احاطہ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تلنگانہ میں برقی بحران کے سبب صنعتی، زرعی اور دیگر ترقیاتی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی وزیر برقی سی لکشمیا روزانہ سات گھنٹے برقی سربراہی کا وعدہ کر رہے ہیں، جب کہ ڈسکام کا ادعا ہے کہ پانچ گھنٹے سے زیادہ برقی سربراہی نہیں ہوسکتی، جس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ عہدہ داروں اور وزیر برقی کے درمیان تال میل نہیں ہے اور عوام بالخصوص کسانوں میں تذبذب پایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو اعتماد میں لینے کی بجائے جھوٹ کا سہارا لے کر انھیں گمراہ کر رہی ہے، جس کی وجہ سے 500 کسانوں نے خودکشی کرلی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ماہ جنوری میں برقی کٹوتی ہو رہی ہے، جس سے موسم گرما کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برقی معاہدہ کے باوجود حکومت کی تساہلی کے سبب کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ 600 میگاواٹ کاکتیہ تھرمل اور 2×600 میگاواٹ برقی پراجکٹ منچریال کے کام جوں کے توں رکے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں چھتیس گڑھ سے ایک ہزار میگاواٹ برقی خریدنے کا معاہدہ کیا گیا، تاہم برقی لانے کے کاموں کا آغاز نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ تقسیم آندھرا پردیش کے بل میں 4000 میگاواٹ تلنگانہ کے لئے مختص کیا گیا، مگر اس کے حصول میں ٹی آر ایس حکومت ناکام ہے۔ کانگریس کے ڈپٹی فلور لیڈر نے چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو پر تلنگانہ میں برقی مسائل پیدا کرنے اور کرشنا پٹنم سے تلنگانہ کو برقی سربراہی میں نانصافی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ غیر ضروری مداخلت کرکے تلنگانہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انھوں نے کے چندر شیکھر راؤ کو مشورہ دیا کہ مرکز سے نمائندگی کرکے برقی مسائل حل کریں اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ انھوں نے چیف منسٹر کے دورۂ ورنگل کو سیاسی دورہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر چیف منسٹر آندھرا پردیش متعدد بار وزیر اعظم سے مل سکتے ہیں تو چیف منسٹر تلنگانہ ملاقات کیوں نہیں کرسکتے۔

TOPPOPULARRECENT