Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں برقی شرح میں اضافہ سے عوام پر 1088 کروڑ کا اضافی بوجھ

تلنگانہ میں برقی شرح میں اضافہ سے عوام پر 1088 کروڑ کا اضافی بوجھ

حیدرآباد /11 فروری (سیاست نیوز) ڈپٹی فلور لیڈر کونسل محمد علی شبیر نے برقی شرح میں اضافہ کی تجویز کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غریب عوام پر مالی بوجھ بڑھ جائے گا۔ آج احاطۂ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تلنگانہ کی پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں نے تلنگانہ اسٹیٹ الکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کو گھریلو صارفین کے

حیدرآباد /11 فروری (سیاست نیوز) ڈپٹی فلور لیڈر کونسل محمد علی شبیر نے برقی شرح میں اضافہ کی تجویز کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غریب عوام پر مالی بوجھ بڑھ جائے گا۔ آج احاطۂ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تلنگانہ کی پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں نے تلنگانہ اسٹیٹ الکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کو گھریلو صارفین کے لئے 10 تا 50 پیسے فی یونٹ برقی شرح میں اضافہ کی تجویز پیش کی ہے، جس سے غریب عوام پر 1,088,88 کروڑ روپئے کا اضافی مالی بوجھ عائد ہوگا، جس کی کانگریس مقننہ پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران سربراہ ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ نے برقی شرح میں اضافہ نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کمرشیل مقصد کے لئے استعمال ہونے والی برقی شرح میں کمی کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر اب اس کے برعکس برقی شرح میں اضافہ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اگر برقی ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کے لئے برقی شرح میں اضافہ لازمی ہے تو حکومت اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عوام کو سبسیڈی پر برقی سربراہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ تقسیم ریاست کے موقع پر تلنگانہ کو 7518 کروڑ روپئے کا فاضل بجٹ ملا تھا، علاوہ ازیں تلنگانہ کی آمدنی 50,759 کروڑ ہے، جب کہ اخراجات 43,241 کروڑ ہیں، اس کے باوجود خسارہ کی وجہ کیا ہے؟، چیف منسٹر کو چاہئے کہ اس کی وضاحت کریں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کے دس سالہ دور حکومت بشمول ان کے وزیر برقی رہنے تک 9 سال برقی شرح میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا اور سارا بوجھ حکومت نے برداشت کیا۔ انھوں نے کہا کہ 2013ء میں کرن کمار ریڈی نے برقی شرح میں اضافہ کیا تھا، تاہم اس وقت ہم لوگ تلنگانہ تحریک کا حصہ بنے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے توجہ نہیں دے سکے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا میں پایۂ تکمیل کو پہنچنے والے برقی پراجکٹس کانگریس کی دین ہے، جس کے لئے بحیثیت وزیر برقی انھوں نے بھی کئی پراجکٹس کے قیام میں اہم رول ادا کیا تھا، جب کہ ٹی آر ایس حکومت میں برقی پیداوار کے لئے اب تک کچھ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ سے برقی خریدنے کا معاہدہ کیا گیا، مگر اب تک برقی حاصل نہیں ہوسکی۔ علاوہ ازیں نلگنڈہ سے برقی کب فراہم کی جائے گی؟ حکومت کو خود اس کا اندازہ نہیں ہے اور نہ ہی برقی پیداوار کے لئے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی ہے۔ انھوں نے انتباہ دیا کہ اگر ٹی آر ایس حکومت کا یہی طرز عمل رہا تو دہلی کی طرح تلنگانہ میں بھی کانگریس کی سونامی آئے گی۔
حیدرآباد /11 فروری (سیاست نیوز) ڈپٹی فلور لیڈر کونسل محمد علی شبیر نے برقی شرح میں اضافہ کی تجویز کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غریب عوام پر مالی بوجھ بڑھ جائے گا۔ آج احاطۂ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تلنگانہ کی پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں نے تلنگانہ اسٹیٹ الکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کو گھریلو صارفین کے لئے 10 تا 50 پیسے فی یونٹ برقی شرح میں اضافہ کی تجویز پیش کی ہے، جس سے غریب عوام پر 1,088,88 کروڑ روپئے کا اضافی مالی بوجھ عائد ہوگا، جس کی کانگریس مقننہ پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران سربراہ ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ نے برقی شرح میں اضافہ نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کمرشیل مقصد کے لئے استعمال ہونے والی برقی شرح میں کمی کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر اب اس کے برعکس برقی شرح میں اضافہ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اگر برقی ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کے لئے برقی شرح میں اضافہ لازمی ہے تو حکومت اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عوام کو سبسیڈی پر برقی سربراہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ تقسیم ریاست کے موقع پر تلنگانہ کو 7518 کروڑ روپئے کا فاضل بجٹ ملا تھا، علاوہ ازیں تلنگانہ کی آمدنی 50,759 کروڑ ہے، جب کہ اخراجات 43,241 کروڑ ہیں، اس کے باوجود خسارہ کی وجہ کیا ہے؟،

چیف منسٹر کو چاہئے کہ اس کی وضاحت کریں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کے دس سالہ دور حکومت بشمول ان کے وزیر برقی رہنے تک 9 سال برقی شرح میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا اور سارا بوجھ حکومت نے برداشت کیا۔ انھوں نے کہا کہ 2013ء میں کرن کمار ریڈی نے برقی شرح میں اضافہ کیا تھا، تاہم اس وقت ہم لوگ تلنگانہ تحریک کا حصہ بنے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے توجہ نہیں دے سکے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا میں پایۂ تکمیل کو پہنچنے والے برقی پراجکٹس کانگریس کی دین ہے، جس کے لئے بحیثیت وزیر برقی انھوں نے بھی کئی پراجکٹس کے قیام میں اہم رول ادا کیا تھا، جب کہ ٹی آر ایس حکومت میں برقی پیداوار کے لئے اب تک کچھ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ سے برقی خریدنے کا معاہدہ کیا گیا، مگر اب تک برقی حاصل نہیں ہوسکی۔ علاوہ ازیں نلگنڈہ سے برقی کب فراہم کی جائے گی؟ حکومت کو خود اس کا اندازہ نہیں ہے اور نہ ہی برقی پیداوار کے لئے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی ہے۔ انھوں نے انتباہ دیا کہ اگر ٹی آر ایس حکومت کا یہی طرز عمل رہا تو دہلی کی طرح تلنگانہ میں بھی کانگریس کی سونامی آئے گی۔

TOPPOPULARRECENT