Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں بھی فرقہ وارانہ خطوط پر رائے دہندوں کو منقسم کرنے کی حکمت عملی

تلنگانہ میں بھی فرقہ وارانہ خطوط پر رائے دہندوں کو منقسم کرنے کی حکمت عملی

منصوبہ بند انداز میں معمولی نوعیت کے فسادات بھڑکاتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کیلئے زعفرانی طاقتوں کی کوشش
حیدرآباد ۔ 8اپریل ( سیاست نیوز) ملک کی سیاست میںفرقہ واریت نئے انداز سے سرائیت کرتی جارہی ہے اور زعفرانی قوتیں ملک کی مختلف ریاستوں میں حصول اقتدار کیلئے بڑے فسادات کے بجائے منصوبہ بند انداز میں معمولی نوعیت کے فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعہ رائے دہندوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر منقسم کرنے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں تاکہ بغیر کسی بڑی ہنگامہ آرائی یا منفی تشہیر کے رائے دہندے مذہبی خطوط پر منقسم ہونے لگ جائیں اور اس کا راست فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل ہوجائے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے صرف ترقی کے ایجنڈہ کے ذریعہ کامیابی ممکن نہیں ہے اس کا احساس بی جے پی کو بہار اور دہلی میں ہوچکا ہے اور عوام نے دونوں ریاستوں میں اسکے فرضی ترقی کے ایجنڈہ کو مسترد کردیا لیکن اس بات کا شدت سے احساس پیدا ہونے کے بعد بی جے پی نے ان ریاستوں میں جہاں انتخابات ہونے والے ہیں وہاں کسی ضلع یا مستقر کا انتخاب کرکے رائے دہندوں کو مذہبی بنیادوں پر متحد کرنے کا منصوبہ تیار کرچکی ہے اور منصوبہ و حکمت عملی پر اترپردیش میں حاصل ہونے والی کامیابی کو اڈیشہ ‘ کرناٹک اور تلنگانہ میں احتیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ زعفرانی قوتوں کے مطابق ریاست کے کسی ایک ضلع یا مستقر میں معمولی فرقہ وارانہ نوعیت کے فساد کے فوری بعد ووٹ اکثریت میں تقسیم ہونے لگیں اور اکثریتی ووٹ متحدہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل ہونے لگے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی بی جے پی کی جانب سے ترقی کے ایجنڈہ کا تذکرہ کیا جارہا ہے اور معمولی نوعیت کے فرقہ وارانہ فسادات کو بنیاد بناتے ہوئے رائے دہندوں کو منقسم کرنے کی کامیاب کوشش کی جانے لگی ہے تاکہ اکثریتی طبقہ کو متحد کرتے ہوئے انہیں ترقی اور خوف دونوں کا احساس دلایا جاسکے ۔ بہار میں انتخابات سے قبل معمولی نوعیت کے فرقہ وارانہ فسادات کروائے گئے لیکن اپوزیشن جماعتوں کے عظیم اتحاد کے سبب بہار میں بی جے پی کو کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن اترپردیش میں مظفر نگر فسادات اور انتخابات کے دوران مخالف فسادات اور اقلیتوں پر مظالم کی داستانیں خود مسلم قائدین کی زبانی بیان کرواتے ہوئے ان فسادات کا بھی بھرپور فائدہ حاصل کیا گیا ۔ دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل بھی اسی طرح کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی لیکن عام آدمی پارٹی نے اس حکمت عملی کو ناکام بنادیا لیکن بی جے پی کی جانب سے اس حکمت عملی کو جاری رکھا جارہا ہے اور جن ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں ان میں فساد کی صورتحال پیدا کی جارہی ہے ۔ اوٹنور میں ہونیو الے معمولی نوعیت کے جھگڑے کو فرقہ وارانہ فساد کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے ۔ اسی طرح اڈیشہ کے علاقہ بھدرک میں ہوئے فسادات کے بعد اب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی مہم شروع کردی ہے ۔ اترپردیش انتخابات میں بی جے پی نے نہ صرف مظفر نگر بلکہ ہریانہ میں ہوئے جاٹ فساد سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا ہے ۔ تلنگانہ کے ضلع عادل آباد میں واقع موضع اوٹنور میں پھیلنے والی کشیدگی کو ہوا دیتے ہوئے تلنگانہ میں حکومت کو چیلنج دیا جانے لگا ہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ جنوبی ہند میں زعفرانی تنظیمیں متحرک ہیں اور مستقبل میں بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے راہیں ہموار کرنے کیکوشش کی جارہی ہے ۔ حکومت کو فوری چوکسی اختیار کرتے ہوئے امن و امان کی برقراری کیلئے فوری اقدامات کرتے ہوئے بدامنی پھیلاتے ہیوئے عوام کے درمیان فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کرنے والوں سے سختی سے نمٹنا چاہیئے ۔ اڈیشہ میں بھی انتخابات قریب ہیں اور بھدرک کے واقعات کو ہوا دی جارہی ہے جو کہ خطرہ کی علامت تصور کی جانے لگی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT