Monday , July 16 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں بی جے پی کیلئے فنڈز میں اضافہ

تلنگانہ میں بی جے پی کیلئے فنڈز میں اضافہ

پارٹی کے استحکام کیلئے صنعتکاروں اور دولتمند طبقہ پر توجہ مرکوز
حیدرآباد۔/14 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں بی جے پی کے استحکام کی کوششوں کے درمیان دونوں ریاستوں سے پارٹی کو فنڈز کے حصول میں بھی بھاری اضافہ ہوا ہے۔ سابق میں دونوں ریاستوں سے پارٹی کو حاصل ہونے والی رقم قابل لحاظ نہیں تھی لیکن مرکز میں بی جے پی کے برسراقتدار آتے ہی فنڈز کی رفتار بھی تیز ہوچکی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے دونوں ریاستوں کے قائدین کو ہدایت دی ہے کہ وہ پارٹی استحکام کیلئے ریاست میں اپنے طور پر فنڈز کا انتظام کریں۔ 2019 عام انتخابات میں بی جے پی دونوں ریاستوں میں بہتر مظاہرہ کے اُمید کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ پارٹی قائدین نے مالیاتی استحکام کیلئے تجارتی اداروں، سرمایہ داروں اور دولت مند گھرانوں سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ آئندہ سال انتخابات میں نہ صرف پارٹی فنڈ حاصل ہو بلکہ دولت مند امیدوار بھی دستیاب رہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے بی جے پی کو 5کروڑ 46 لاکھ روپئے کا فنڈ حاصل ہوا ہے۔ آندھرا پردیش کے ایک کمرشیل ادارہ نے 5 کروڑ روپئے پارٹی فنڈ کے طور پر دیئے ہیں جو کہ کاکیناڈا سی پورٹ لمیٹیڈ ہے جو وجئے واڑہ سے اپنی تجارت انجام دیتا ہے۔ تلنگانہ میں نویوگ انجینئرنگ کمپنی حیدرآباد نے سب سے زیادہ 30 لاکھ روپئے کا فنڈ دیا۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن کو ایسے عطیہ دہندگان کی فہرست فراہم کی ہے جن کی رقم 20ہزار سے زائد ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر 20ہزار سے کم کے عطیہ دہندگان کی رقم کو شمار کیا جائے تو مجموعی فنڈ کی رقم مزید زیادہ ہوگی۔ فنڈز کے اعتبار سے بی جے پی ملک کی سب سے دولتمند سیاسی جماعت کے طور پر اُبھری ہے جسے ایک سال میں 96.41 فیصد زائد فنڈز حاصل ہوئے اور اسے 1034 کروڑ کے فنڈز کے ساتھ پہلا مقام حاصل ہوا ہے۔ کانگریس پارٹی 225 کروڑ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کرناٹک، ٹاملناڈو، کیرالا، تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے عطیہ دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ آندھرا پردیش میں پارٹی برسر اقتدار تلگودیشم کی حلیف کی حیثیت سے برقرار ہے تاہم حالیہ عرصہ میں مرکز سے چندرا بابو نائیڈو کے اختلافات کے بعد بی جے پی وزراء نے چندرا بابو نائیڈو کابینہ سے علحدگی اختیار کرلی۔ اسی طرح تلنگانہ میں بی جے پی کو اسمبلی کی 5 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی اور وہ 2019 میں 20 سے زائد نشستوں کے نشانہ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور دیہی سطح پر پارٹی کیڈر کے علاوہ آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کی دیگر تنظیموں کو متحرک کردیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT