Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں بی جے پی کے قدم روکنے کے سی آر کی حکمت عملی

تلنگانہ میں بی جے پی کے قدم روکنے کے سی آر کی حکمت عملی

اقلیتی عوامی نمائندوں کے ساتھ چیف منسٹر کا اجلاس ، بی جے پی کی بڑھتی ہوئی قربت پر وضاحت
حیدرآباد۔17 اگست (سیاست نیوز) ایسے وقت جبکہ بی جے پی جنوبی ہند کی ریاستوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو تلنگانہ میں بی جے پی کے قدم روکنے کے لیے حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔ کے سی آر نے پارٹی کے اقلیتی عوامی نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں حکمت عملی کا خلاصہ کیا اور کہا کہ تلنگانہ میں فرقہ پرست طاقتوں کو مستحکم ہونے سے روکنے کے لیے وہ جامع حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لاکھ کوشش کرلے لیکن تلنگانہ میں اس کے عزائم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ کے سی آر نے بی جے پی سے بڑھتی قربت کی اطلاعات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے مفادات کے پیش نظر صدر جمہوریہ اور نائب صدر کے انتخابات میں این ڈی اے امیدواروں کی تائید کی گئی۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پارٹی این ڈی اے میں شامل ہوگی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں مسلم اقلیت کا موقف فیصلہ کن ہے اور ان کی بھرپور تائید سے تلنگانہ میں بی جے پی کے بڑھتے قدم روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور لوک سبھا کے لیے 2019ء میں تلنگانہ سے بی جے پی کے موجودہ ارکان بھی منتخب نہیں ہو پائیں گے۔ سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی کی کامیابی نہیں ہوگی۔ کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ اپنی گنگاجمنی تہذیب اور سکیولرازم کے لیے دنیا بھر میں منفرد شناخت رکھتا ہے اور وہ اس تہذیب کی پاسداری کا عہد کرچکے ہیں۔ کسی بھی صورت میں سکیولرازم اور قومی یکجہتی کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں بی جے پی کے استحکام کے لیے کافی مساعی کی جارہی ہے لیکن تلنگانہ کی سرزمین اپنی مضبوط اور پائیدار روایات کے سبب اس طرح کی طاقتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے بارے میں حکومت کے موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقلیتی قائدین کو بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران انہوں نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر موقف کی وضاحت کی۔ تحفظات مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر دیئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر کے مطابق وزیراعظم نے مسلم تحفظات کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کے موقف اور دلائل سے اتفاق کیا۔ کے سی آر نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت مسلم تحفظات کی منظوری کے سلسلہ میں وعدے سے انحراف کرتی ہے تو حکومت متبادل امکانات تلاش کرنے کے لیے آزاد ہے۔ اقلیتی عوامی نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں چیف منسٹر نے واضح طور پر اس بات کا اشارہ دیا کہ پارٹی ابھی سے آئندہ انتخابات کی تیاری کررہی ہے۔ انہوں نے عوامی نمائندوں سے کہا کہ وہ عوام کے درمیان رہ کر حکومت کی اسکیمات کے فوائد اقلیتوں تک پہنچائیں تاکہ اقلیتوں کو مزید قریب کیا جاسکے۔ انہوں نے عوامی نمائندوں اور مختلف کارپوریشنوں کے صدور نشین کو مشورہ دیا کہ ڈپٹی چیف منسٹر اور حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور اسکیمات پر موثر عمل آوری کی راہ ہموار کریں۔

TOPPOPULARRECENT