Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں تجارتی امور سہل ‘ تجار ت کا آغاز مہنگا

تلنگانہ میں تجارتی امور سہل ‘ تجار ت کا آغاز مہنگا

دیگر ریاستوں کی بہ نسبت زیادہ سرمایہ درکار ‘ مہنگائی تجارتی اداروں کیلئے باعث تشویش

حیدرآباد۔14جولائی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش نے 2016میں عالمی بینک کی فہرست میں تجارتی امور کو آسان بنانے والی ہندستانی ریاستوں میں سرفہرست مقام حاصل کرتے ہوئے ایک ریکارڈ بنایا ہے لیکن اس کے بعدتجارتی انجمنوں کی جانب سے کئے گئے ایک مطالعہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست تلنگانہ میں تجارت کی شروعات آسان ضرور ہے مگر دیگر پڑوسی ریاستوں میں تجارت کے آغاز کے لئے جو رقم درکار ہوتی ہے اس سے کافی زیادہ سرمایہ تلنگانہ میں درکار ہوتا ہے جس کے سبب تلنگانہ میں تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کافی مہنگا ہے ۔ فیڈریشن آف تلنگانہ اینڈ آندھراپردیش چیمبر آف کامرس کے ایک مطالعہ کی رپورٹ جو جاری کی جانے والی تھی لیکن لمحہ آخر میں اس رپورٹ کو عوام کے درمیان لانے سے اجتناب کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس سے قبل اس مطالعاتی رپورٹ کو جاری کیا جاتا اس رپورٹ کے افشاء نے اس حقیقت کا راز فاش کردیا کہ تلنگانہ میں تجارت کا آغاز کیا جانا کافی مہنگا ہے کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے فوائد و مراعات کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر کے سبب یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ مطالعہ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پڑوسی ریاستوں آندھرا پردیش ‘ کرناٹک اور ٹامل ناڈو میں نئی تجارتی سرگرمیو ںکو شروع کرنے کیلئے جو سرمایہ درکار ہے اس سے کافی زیادہ سرمایہ نئی تجارتی سرگرمیو ںکو شروع کرنے تلنگانہ میں درکار ہوتا ہے۔ مطالعہ میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ریاست تلنگانہ میں سرکاری محکمہ جات سے اجازت ناموں کی اجرائی اور ایک ہی مقام سے تمام دستاویزی کاروائیوں کی تکمیل بہتر ہے لیکن تجارتی امور میں تاجر اپنے اصولوں اور انہیں ہونے والے فوائد کے متعلق بھی غور کرتے ہیں لیکن ان کی جانب سے تلنگانہ میں جو مہنگائی ریکارڈ کی جا رہی ہے وہ ان پڑوسی ریاستوں سے کافی زیادہ ہے جہاں تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کیلئے چند ایک دشواریا ں ہیں۔اس رپور ٹ میں مختلف ریاستوں کی لائسنس فیس‘ صنعتی اراضی کی ترقی کے علاوہ دیگر امور کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کو اجارگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں صنعتی اداروں کے موقف کی جانچ کو ممکن بنایا جا سکے۔ تلنگانہ میں صنعتی ادارہ شروع کرنے کیلئے بطور لائسنس فیس جو وصول کی جاتی ہے وہ 8000روپئے ہے لیکن اس کے بعد جب کبھی لائسنس کی تجدید کروائی ہوتی ہے صنعتکار کو 24ہزار روپئے فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح آندھرا پردشمیں یہ فیس صرف 12ہزار 500 روپئے ہے جبکہ کرناٹک میں اسی مقصد کیلئے صرف 4ہزار 280 روپئے وصول کئے جا تے ہیں۔ اسی طرح برقی کی قیمتوں و دیگر امور کا جائزۃ لینے کے بعد مطالعاتی رپورٹ تیار کرنے والوں نے ریاست تلنگانہ کو مہنگی ریاست قرار دینے کی کوشش کی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT