Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں تلگودیشم کو دھکہ ‘ 4 ارکان اسمبلی و ایک رکن کونسل کی بغاوت

تلنگانہ میں تلگودیشم کو دھکہ ‘ 4 ارکان اسمبلی و ایک رکن کونسل کی بغاوت

چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے ملاقات : بہت جلد ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان : چندرا بابو نائیڈو پر شدید تنقید

چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے ملاقات : بہت جلد ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان : چندرا بابو نائیڈو پر شدید تنقید
حیدرآباد۔/9اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اپنے وجود کی برقراری اور پارٹی کے استحکام کی کوششوں میں مصروف صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو کو آج اس وقت دھکہ لگا جب پارٹی کے 4ارکان اسمبلی اور ایک ایم ایل سی نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی اور ٹی آر ایس میں شمولیت کے فیصلہ کا اعلان کیا۔ چندرا بابو نائیڈو جو تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے اور ارکان اسمبلی کو پارٹی میں برقراری کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ایسے موقع پر چیف منسٹر تلنگانہ کا آپریشن آکرشن کامیاب ہوگیا اور ٹی آر ایس کو شہر اور مضافاتی علاقوں میں نئی طاقت حاصل ہوئی ہے۔ پارٹی ارکان اسمبلی ٹی سرینواس یادو ( صنعت نگر) ٹی پرکاش گوڑ ( راجندر نگر) تیگلا کرشنا ریڈی ( مہیشورم ) اور سی دھرما ریڈی ( پرکال ) کے علاوہ نظام آباد کے ایم ایل سی گنگادھر گوڑ نے آج چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی اور پارٹی میں شمولیت کے فیصلہ سے واقف کرایا۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر ٹی راجیا کے علاوہ ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ، مہیندر ریڈی، ہریش راؤ اور دیگر قائدین موجود تھے۔ چیف منسٹر سے ملاقات کے دوران تلگودیشم لیجسلیچرس نے کہا کہ وہ بہت جلد ایک بڑے جلسہ عام میں ٹی آر ایس میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرلیں گے۔ شہر میں ٹی آر ایس کے تنظیمی ڈھانچہ کو مستحکم کرنے اور مجوزہ بلدی انتخابات میں پارٹی کے بہتر مظاہرہ کو یقینی بنانے چیف منسٹر نے تلگودیشم ارکان اسمبلی کو شامل کرنے کی کوشش کی۔ گذشتہ دو ماہ سے جاری ان کوششوں کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا اور چار ارکان اسمبلی اور ایک رکن کونسل نے تلگودیشم سے عملاً بغاوت کردی۔ اگرچہ چندرا بابو نائیڈو نے حالیہ عرصہ میں پارٹی کے تلنگانہ ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے انہیں پارٹی میں برقرار رکھنے کی کوشش کی لیکن آج کی سیاسی تبدیلی سے چندرا بابو نائیڈو کو ایک دھکہ لگا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ تلگودیشم قائدین کو مشورہ دیا تھا کہ ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کے خلاف بس یاترا کا اہتمام کریں۔ بس یاترا کے آغاز سے عین قبل 5لیجسلیچرس کی پارٹی سے علحدگی تلگودیشم کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ٹی آر ایس اور چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تلگودیشم کے مزید ارکان اسمبلی بھی ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ چیف منسٹر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سرینواس یادو نے کہا کہ وہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے چندر شیکھر راؤ کے اقدامات کی ستائش کرتے ہیں اور ان کوششوں میں حصہ دار بننے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ شمولیت کی تاریخ کے بارے میں پوچھے جانے پر سرینواس یادو نے کہا کہ بہت جلد اس کی تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے چندرا بابو نائیڈو اور آندھرا پردیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ میں برقی بحران اور کسانوں کے موجودہ مسائل کیلئے آندھرا پردیش حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کو برسراقتدار آئے چار ماہ ہوئے ہیں لہذا موجودہ مسائل کیلئے اسے ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو آندھرائی قائدین کو مسلط کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے چندرا بابو نائیڈو کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے ارکان اسمبلی سے کہا تھا کہ ان کے فرزند لوکیش تلنگانہ میں پارٹی کی کمان سنبھالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا پٹنم پاور پراجکٹ آغاز کیلئے تیار ہے لیکن چندرا بابو نائیڈو اس میں تاخیر کررہے ہیں تاکہ تلنگانہ میں برقی کا بحران برقرار رہے۔ حیدرآباد کو دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت بنانے اور گورنر کو زائد اختیارات کے سلسلہ میں نائیڈو کی کوششوں کو بھی سرینواس یادو نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ سابق میئر حیدرآباد اور مہیشورم کے رکن اسمبلی تیگلا کرشنا ریڈی نے چندرا بابو نائیڈو پر الزام عائد کیا کہ وہ پارٹی میں خاندانی حکومت کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل صرف کے سی آر سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم جدید قانون 2014 کے تحت برقی کے شعبہ میں تلنگانہ کی حصہ داری 54فیصد ہے۔ لیکن نائیڈو تلنگانہ سے ناانصافی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حیدرآباد کو بین الاقوامی معیار کا شہر بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور ہم ان کوششوں کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ رکن قانون ساز کونسل گنگا دھر گوڑ جو کونسل میں تلگودیشم کے ڈپٹی لیڈر بھی ہیں تلنگانہ کے موجودہ مسائل کیلئے چندرا بابو نائیڈو کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ بہت جلد یہ لیجسلیچرس ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔

TOPPOPULARRECENT