Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں تمام طبقات کے ساتھ انصاف کی امید

تلنگانہ میں تمام طبقات کے ساتھ انصاف کی امید

حیدرآباد کا تحفظ اہم مسئلہ ، پروفیسر کودنڈا رام کا اظہار خیال

حیدرآباد کا تحفظ اہم مسئلہ ، پروفیسر کودنڈا رام کا اظہار خیال
حیدرآباد۔21مئی(سیاست نیوز)علیحدہ تلنگانہ حامی سیاسی جماعت کی بھاری اکثریت سے علاقہ تلنگانہ میں کامیابی کے بعد پچھلے ساٹھ سالوں میں علاقہ تلنگانہ کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کے خاتمہ اور تلنگانہ کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کی امیدیں روشن ہوگئی ہیں۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیرمن پروفیسر کودانڈرام نے ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ مسلم فرنٹ کے وفد سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔ مجوزہ ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس پارٹی کے انتخابی منشورپر عمل آواری اور ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ مسلمان میناریٹی کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل آواری کے متعلق فرنٹ کے وفد نے چیف کنونیر ثناء اللہ خان کی قیادت میں ملاقات کی ۔ پروفیسر کودانڈرام نے کہاکہ 2جون کے بعد ریاست ِ تلنگانہ کو درپیش خطرات میںشہر حیدرآباد کا تحفظ سب سے اہم مسئلہ ہے جس کے لئے جی اے سی کے بشمول تلنگانہ تحریک میںسرگرم رول ادا کرنے والی تمام تنظیموں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔ پروفیسر کودانڈرام نے مزیدکہاکہ شہر حیدرآباد اور اس کے مضافات میں تلگودیشم پارٹی کے امیدواروں کا منتخب ہونا تلنگانہ حامیوں کے لئے تشویش ناک بات ہے انہوں نے کہاکہ مخالف تلنگانہ سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدوار حیدرآباد پر منڈلا رہے خطرہ کا سبب بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حیدرآباد کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے یا پھر مستقبل طور پر مشترکہ صدر مقام رکھنے کی تمام کوششوں کو سابق کی طرح ناکام بنانے کی ذمہ داریاں بھی تلنگانہ حامی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں پر عائد ہوگی۔ کودانڈرام نے ٹی آر ایس کے انتخابی منشور پر عمل آواری کے متعلق فرنٹ کے مطالبہ کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی تلنگانہ تحریک کے دوران ہی اس بات کا اعلان کرچکی ہے کہ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے قبل اور مابعد تلنگانہ کے کسی بھی طبقہ کے ساتھ ناانصافی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔پروفیسر کودانڈرام نے ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ مسلم فرنٹ کو بھی مجوزہ کمیٹیوں میںشامل ہونے کی پیش کش کی ۔فرنٹ کے کنونیرز رشید خان آزاد‘ حیات حسین حبیب‘ انور پٹیل‘ اسلم عبدالرحمن خان‘مصطفی صدیقی‘ سید فیروز‘ شبیر علی‘ احمد علی‘ سید فرید‘ مرزا ساجد بیگ ‘جہانگرگوڑ‘ سی ایل یادگیری‘ پجاری نرسنگ رائو کے علاوہ دیگر بھی وفد میںشامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT