Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں خانگی اسٹیٹ کے طرز پر من مانے فیصلے

تلنگانہ میں خانگی اسٹیٹ کے طرز پر من مانے فیصلے

ریاست کی معیشت تباہ، کانگریس ورکنگ پریسیڈنٹ ملو بٹی وکرامارک
حیدرآباد /3 ستمبر (سیاست نیوز) ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس ملو بٹی وکرامارک نے خانگی اسٹیٹ کے طرز پر من مانے فیصلے کرتے ہوئے ریاست کی معیشت کو تباہ کرنے اور اپنے خاندان و حامیوں کو فائدہ پہنچانے کے علاوہ ریاست تلنگانہ کو کنگال بنانے کی سازش پر عمل پیرا ہونے کا چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ بات کہی۔ اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر اور ترجمان کانگریس شرون کمار بھی موجود تھے۔ انھوں نے سستی شراب سے دست برداری اختیار کرنے کے حکومت کے فیصلہ کو تلنگانہ عوام اور کانگریس کی کامیابی قرار دیا، جب کہ کانگریس نے اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرتے ہوئے حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا اور مستقبل میں بھی کانگریس پارٹی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انھوں نے کل کابینہ کے اجلاس میں آبپاشی پراجکٹس کے ری ڈیزائن پر 81 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کے فیصلہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت نے شہر حیدرآباد کے بشمول تلنگانہ کے 7 اضلاع کو پینے کا پانی اور فصلوں کو سیراب کرنے کے لئے پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کی تعمیرات کا آغاز کیا، اس پراجکٹ پر 10 ہزار کروڑ روپئے بھی خرچ کئے اور اس پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دینے کے لئے کامیاب نمائندگی بھی کی تھی، لیکن ٹی آر ایس حکومت من مانی کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کے ڈیزائن کو تبدیل کرنے سے یہ پراجکٹ قومی درجہ حاصل کرنے کے موقف سے محروم ہو جائے گا اور کانگریس حکومت کی جانب سے خرچ کی گئی رقم ضائع ہو جائے گی، لہذا تلنگانہ حکومت ریاست کی معیشت تباہ کرنے کی بجائے اپنے فیصلہ سے دست بردار ہو جائے۔ انھوں نے کہا کہ ریاست میں ناکافی بارش کی وجہ سے نصف سے زائد منڈل خشک سالی کا شکار ہیں، جب کہ قرض کے بوجھ کے سبب ایک ہزار سے زائد کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وعدہ کے مطابق حکومت کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے میں ناکام ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے بینکرس کسانوں کو نئے قرضہ جات کی اجرائی سے انکار کر رہے ہیں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے تمام مسائل کا جائزہ لے۔

TOPPOPULARRECENT