Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں خواتین غیر محفوظ ، مہیلا کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ

تلنگانہ میں خواتین غیر محفوظ ، مہیلا کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ

صدر پروگریسیو آرگنائزیشن آف ویمن تلنگانہ اسٹیٹ جی جھانسی و دیگر کی پریس کانفرنس

صدر پروگریسیو آرگنائزیشن آف ویمن تلنگانہ اسٹیٹ جی جھانسی و دیگر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : خواتین کی پروگریسیو آرگنائزیشن آف ویمن تلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی نے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست تلنگانہ میں ’ مہیلا کمیشن ‘ کے قیام کا اعلان کرے اور ساتھ ہی خواتین کے ساتھ کئے جانے والے ’ مادر مستعار ‘ طریقہ کار پر پابندی عائد کرے ۔ بصورت دیگر خواتین کی کمیٹی پی او ڈبلیو کی جانب سے جاریہ ماہ 23 جنوری کو ریاست تلنگانہ میں ریاست گیر سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ، دھرنا پروگرامس منعقد کرنے کے علاوہ ضلع کلکٹروں کو یادداشتیں پیش کی جائیں گی ۔ ان خیالات کا اظہار آج یہاں صدر کمیٹی شریمتی جی جھانسی ، جنرل سکریٹری شریمتی چنڈرا ارونا نے پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں خواتین اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کررہی ہیں اور خواتین پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور روز افزوں خواتین کی عصمت ریزی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اس کے باوجود ریاست میں برسر اقتدار حکومت خواتین کی عزت نفس کے تحفظ میں بے بس دکھائی دے رہی ہے ۔ اس پر یہ طرفہ تماشہ کہ ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں غریب اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ’ مادر مستعار ‘ طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کی عزت و توقیر سے کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔ جس پر پابندی عائد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری مہیلا کمیشن کے قیام کا اعلان کرنے کے علاوہ ’ مادر مستعار ‘ پر پابندی عائد کرے ۔ اس موقع پر رکن پی او ڈبلیو شریمتی لکشمی بائی بھی موجود تھیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT