Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں ’’دودھ کا انقلاب‘‘

تلنگانہ میں ’’دودھ کا انقلاب‘‘

ڈیری فارمس کو بڑے پیمانے پر ترقی دینے چیف منسٹر کا وعدہ
حیدرآباد ۔ 17 ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے آج اعلان کیا کہ وہ ریاست میں ’’دودھ کا انقلاب‘‘ لانے کیلئے ڈیری شعبہ کو ترقی دینے والی جامع اسکیم شروع کریں گے۔ دودھ فراہم کرنے والی فرمس جیسے وجئے ڈیری ڈیولپمنٹ سوسائٹی، ملکانور ڈیری ڈیولپمنٹ سوسائٹی نلگنڈہ، رنگاریڈی ڈسٹرکٹس ڈیری ڈیولپمنٹ سوسائٹیز اور کریم نگر کو ان اسکیموں کے ذریعہ اولین ترجیح دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے فی لیٹر 4 روپئے کی ترغیب دینے کیلئے ڈیری فارمس کی سوسائٹیز کے مطالبہ کو قبول کرلیا۔ کے سی آر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ڈیری ڈیولپمنٹ سوسائٹیز کے ذریعہ حکومت، کسانوں کی جانب سے بھینس کی خریداری کیلئے 50% سبسڈی فراہم کی جائے گی اور ایس سی، ایس ٹی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ڈیری فارمرس کو 75% کی سبسڈی دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے تیقن دیا کہ ڈیری فارمرس کو فی لیٹر 4 روپئے کی ترغیب بھی دی جانے کی پالیسی پر 24 ستمبر سے عمل آوری ہوگی اور دو مہینوں کے بعد ڈیری فارمرس میں بھینسوں کی تقسیم شروع کی جائے گی۔ جیسا کہ سابق میں بکریوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے۔ چندر شیکھر راؤ آج یہاں پرگتی بھون کے سبزہ زار پر وجئے ڈیری، ملکانور ،نلگنڈہ اور رنگاریڈی ڈسٹرکٹ ڈیری ڈیولپمنٹ سوسائٹیز کے ارکان کی کثیر اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ ڈیری فارمرس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں دودھ کی پیداوار میں کوئی کمی نہیں ہے۔ تینوں ڈیری ڈیولپمنٹ سوسائٹیز نے مل کر تقریبا 7 لاکھ لیٹر دودھ سربراہ کرتی ہیں ، جبکہ کرناٹک سے 6 لاکھ لیٹر دودھ سربراہ کیا جاتا ہے۔ آندھرا پردیش سے صرف 4 لاکھ لیٹر دودھ سربراہ ہوتا ہے۔ گجرات سے تلنگانہ کو 2 لاکھ لیٹر دودھ سربراہ کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ میں دودھ کی پیداوار کا فیصد بہت ہی معمولی ہے جبکہ یہاں ایک کروڑ لیٹرس کی طلب ہے۔ اس تناظر میں چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں دودھ کا انقلاب بڑے

 

 

بتکماں تہوار کے موقع پر ایک کروڑ ساڑیوں کی تقسیم
حیدرآباد ۔ 17 ستمبر (سیاست نیوز) بتکماں تہوار کے موقع پر تلنگانہ حکومت کی جانب سے خواتین میں ایک کروڑ ساڑیاں تقسیم کی جائیں گی۔ کل سے شروع ہونے والے تہوار کے لئے حکومت نے بطورِ تحفہ ساڑیاں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکیم کیلئے 222 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ ابتداء میں یہ ساڑیاں مستحق خواتین میں تقسیم کی جائیں گی جن کے پاس سفید راشن کارڈ ہوگا، اس کے بعد 18 سال عمر کی لڑکیوں میں یہ ساڑیاں تقسیم کی جائیں گی۔ ایک کروڑ ساڑیوں کا نصف حصہ ریاست میں ہی تیار کیا گیا ہے۔ مابقی ساڑیوں کو ملک گیر سطح سے ٹنڈر کے ذریعہ حاصل کیا گیا ہے۔ ضرورت مند خواتین سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ ان ساڑیوں کے حصول کیلئے فوڈ سکیورٹی کارڈ ، آدھار کارڈ یا پھر تصویری شناختی کارڈ کی زیراکس ساتھ لائیں۔
پیمانے پر دودھ کی پیداوار کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈیری فارمرس کو بھی ترقی حاصل ہوگی۔ قیام تلنگانہ کے بعد سے ان کی حکومت عوام کی ترقی میں مصروف ہے۔

TOPPOPULARRECENT