Saturday , May 26 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں راجیہ سبھا کی 3 نشستوں کے لیے ٹی آر ایس میں زبردست سرگرمیاں

تلنگانہ میں راجیہ سبھا کی 3 نشستوں کے لیے ٹی آر ایس میں زبردست سرگرمیاں

2 ناموں کو چیف منسٹر کی منظوری ، ایک اور نام اندرون ہفتہ قطعیت ، عنقریب ٹی آر ایس کا اجلاس
حیدرآباد۔/2مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں راجیہ سبھا کی 3 نشستوں کیلئے ٹی آر ایس میں زبردست سرگرمیاں جاری ہیں تاہم چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ابھی تک اس سلسلہ میں مشاورت کا آغاز نہیں کیا ہے۔ انتخابی شیڈول کے مطابق 5 مارچ کو انتخابی اعلامیہ جاری کردیا جائے گا اور 12 مارچ تک پرچہ نامزدگی داخل کئے جاسکتے ہیں۔ رائے دہی ضروری ہونے پر 23 مارچ کو منعقد کی جائے گی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے 2 امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دے دی ہے اور انہیں تیسرے نام کے بارے میں غور کرنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اندرون ایک ہفتہ اس سلسلہ میں بااعتماد وزراء اور قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اس موقع پر چیف منسٹر 3 امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دیں گے۔ 3 نشستوں کیلئے اگرچہ امیدواروں کی تعداد کافی زیادہ ہے لیکن اپنے حامیوں کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دلانے کیلئے سینئر قائدین اور وزراء بھی سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک کسی بھی وزیر یا قائد کو چیف منسٹر نے راجیہ سبھا کے الیکشن کے سلسلہ میں اپنے ذہن سے واقف نہیں کرایا اور نہ ہی اس مسئلہ پر کسی سے بات چیت کی۔ راجیہ سبھا کی تین نشستیں آر آنند بھاسکر اور سی ایم رمیش کی میعاد کی تکمیل اور پی گوردھن ریڈی کے دیہانت کے باعث خالی ہوئی ہیں۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے راجیہ سبھا کی نشست کیلئے خواہشمندوں کا تانتا بندھ چکا ہے لیکن چیف منسٹر نے کسی کو ملاقات کا موقع نہیں دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ 2 نشستیں کمزور طبقات اور ایک نشست اعلیٰ طبقہ کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی رشتہ دار اور پارٹی کے ریاستی جنرل سکریٹری جے سنتوش کمار کی امیدواری تقریباً طئے مانی جارہی ہے۔ پارٹی کے مختلف گوشوں نے انہیں پیشگی مبارکباد کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ سنتوش کمار تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے پارٹی اور حکومت میں سرگرم رول ادا کررہے ہیں۔ چیف منسٹر نے یادو طبقہ سے تعلق رکھنے والی شخصیت کو راجیہ سبھا کیلئے منتخب کرنے کا پہلے ہی اعلان کردیا ہے جبکہ تیسری نشست بی سی زمرہ میں مدیراج طبقہ کو دی جاسکتی ہے۔ ابتداء میں توقع کی جارہی تھی کہ چیف منسٹر مسلم تحفظات کے وعدہ پر عمل آوری میں ناکامی کے عوض ایک مسلمان کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دیں گے اس کے لئے بعض ناموں کا پارٹی حلقوں میں تذکرہ کیا گیا لیکن باوثوق ذرائع کے مطابق کسی مسلمان کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دیئے جانے کا فی الوقت کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم راجیہ سبھا کی نشست کے مضبوط دعویدار کے طور پر ابھرے لیکن اُن کی امیدواری کا قطعی فیصلہ آئندہ ہفتہ کے اجلاس میں ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی حلیف مقامی جماعت شہر سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کو راجیہ سبھا کیلئے منتخب کرنے کے خلاف ہے کیونکہ شہر کے مسلمانوں میں ایک اور مسلم رکن پارلیمنٹ کی سرگرمیوں کا آغازہوجائیگا جو مقامی جماعت کو پسند نہیں۔ چیف منسٹر کے فرزند کے ٹی آر اور دختر کویتا نے مسلمان کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دینے کی تائید ضرور کی لیکن انہوں نے اپنا موقف چیف منسٹر کے روبرو بیان کیا اس بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔ لہذا مسلم قائد کو راجیہ سبھا کی امیدواری کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ یادو طبقہ میں راجیہ سبھا کی نشست کیلئے سابق ارکان اسمبلی این نرسمہیا، گوپال یادو اور شیپ اینڈ میٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے صدر کے راجیا یادو کے نام سرفہرست بتائے گئے ہیں جبکہ بی سی مدیراج طبقہ سے کریم نگر ضلع پریشد کی صدرنشین ٹی اوما اور بھونگیر سے سابق تلگودیشم وزیر اوما مادھو ریڈی کے نام پارٹی حلقوں میں زیر گشت ہیں۔ چیف منسٹر امیدواروں کے ناموں کو قطعیت کے سلسلہ میں کب اور کس کے حق میں فیصلہ کرے گی اس بارے میں کوئی بھی وثوق کے ساتھ کہنے کے موقف میں نہیں۔ عددی طاقت کے اعتبار سے ٹی آر ایس تینوں نشستوں پر باآسانی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ کانگریس کے رکن اسمبلی ریونت ریڈی نے تلنگانہ کے لئے قربانی دینے والے نوجوانوں میں سے کسی ایک کے خاندان کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس شہیدان تلنگانہ میں سے کسی کو ٹکٹ نہیں دے گی تو کانگریس اپنا امیدوار کھڑا کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT