Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں زائد از 45 ہزار ایکٹر اوقافی اراضی کی نشاندہی

تلنگانہ میں زائد از 45 ہزار ایکٹر اوقافی اراضی کی نشاندہی

اراضی ریکارڈ کی جانچ کا کام تقریباً مکمل، دوسرے مرحلہ کا عنقریب آغاز، اسمبلی میں ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا بیان
حیدرآباد۔ 23 مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال محمد محمود علی نے کہا کہ ریاست میں اراضی ریکارڈ کی جانچ کا کام کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں 70 سال کے وقفہ کے بعد اراضی سروے کا کام انجام دیا گیا اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کی خصوصی دلچسپی سے زرعی، وقف، انڈومنٹ، بھودان اور دیگر اراضیات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضیات کے سروے کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے گا جس میں متنازعہ اراضیات کا سروے ہوگا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے آج اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وی سرینواس گوڑ اور دیگر ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اراضی سروے کی تفصیلات پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ سروے میں سخت محنت کرنے والے محکمہ مال کے ملازمین کو ترغیب کے طور پر ایک ماہ کی بنیادی یافت منظور کی گئی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے 35,172 ملازمین کو فائدہ پہنچا اور 72 کروڑ روپئے ادا کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 93 فیصد اراضی کے سروے کا کام مکمل ہوچکا ہے اور سروے سے 72,12,111 کسانوں کو فائدہ ہوا۔ محمود علی نے کہا کہ کسانوں کو پٹہ دار پاس بک اپریل یا مئی سے جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اراضی سروے میں اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور انہیں ریونیو ریکارڈ میں وقف کے طور پر درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سروے میں 45,570 ایکڑ اوقافی اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ انڈومنٹ کی 74,155 ایکر اراضی کا پتہ چلا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں مزید اراضیات کی نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے اوقافی اراضیات کے تحفظ میں خصوصی دلچسپی دکھائی ہے۔ عہدیداروں کے اجلاس میں جب وقف اراضی کے بارے میں تفصیلات بتانے سے وقف بورڈ کے عہدیدار قاصر رہے تو چیف منسٹر نے وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کو مہربند کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی اراضیات جن پر کاشت کی جارہی ہے۔ انہیں کاشتکار کے نام پر پٹہ دار پاس بک میں درج نہیں کیا گیا بلکہ بحیثیت اوقافی اراضی درج رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اوقافی اراضیات کے تحفظ کے ذریعہ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تلنگانہ واحد ریاست ہے جہاں اراضی سروے کا کام کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ کسی بھی ریاست میں اس قدر منظم انداز میں سروے کا کام نہیں ہوا ہے۔ گجرات میں کئی برسوں سے سروے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں کے دور کی اراضیات کو ان کے وارثین نے فروخت کردیا۔ وہ اراضی پر اپنی دعویداری ثابت کرنے کے لیے دستاویزات سے محروم ہیں۔ اراضی سروے کے ذریعہ انہیں ملکیت کا سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ میں 568 ریونیو منڈل اور 10,823 مواضعات ہیں۔ 2,56,70,814 ایکر اراضی کا سروے کیا گیا اور 2,39,81,994 ایکر اراضی کو کلیئرنس حاصل ہوا ہے۔ 16,88,976 ایکر اراضی مختلف تنازعات میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پٹہ دار پاس بک کو پاسپورٹ کی طرز پر تیار کیا گیا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی نقائص کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پٹہ دار پاس بک میں کوئی دھاندلی نہیں کی جاسکتی۔ سابق میں جاری کیے گئے پٹہ دار پاس بک نقائص سے پر تھے۔ شہر میں اراضی سروے کی تکمیل میں حائل دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے محمود علی نے کہا کہ اس سلسلہ میں حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ شہر میں 1,25,000 اراضی پٹہ جات غریبوں میں تقسیم کیے گئے ۔ انہوں نے تیقن دیا کہ سرکاری اراضیات پر قابض غریب خاندانوں کو بے دخل کرنے کے لیے کسی قسم کی ہراسانی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں بھی اراضی دستیاب ہوگی حکومت غریبوں میں تقسیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ بی جے پی کے ڈاکٹر لکشمن نے حکومت سے شکایت کی کہ ریونیو حکام سلم علاقوں میں غریب خاندانوں کو ہراساں کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT