Thursday , December 13 2018

تلنگانہ میں زیر زمین آبی سطح میں کمی پانی کے بحران کا خدشہ

حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : موسم گرما بتدریج اپنے عروج پر پہنچ رہا ہے جس کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ کے گاؤں پانی کے بحران میں سنگینی کا شکار ہوتے دکھائی دے ہیں کیوں کہ ایک جانب دیہاتوں میں پانی کی سربراہی کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے تو دوسری جانب زمین میں پانی کی سطح مزید کم ہوتی جارہی ہے ۔ تفصیلات کے بموجب دیہاتوں میں آبی سربراہی کے محکمہ کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ عوام کی آبی ضرورت کی تکمیل کے لیے واٹر ٹینکرس طلب کئے جارہے ہیں جب کہ زراعت کے لیے استعمال کیے جانے والے بورویلس کو بھی پینے کے پانی کی سربراہی کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے ۔ مشن بھاگیرتا کے عہدیدار کوشاں ہیں کہ جن دیہاتوں میں پانی کا بحران ہورہا ہے وہاں حسب ضرورت پانی کی سربراہی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ رورل واٹر سپلائی شعبہ کے سینئیر عہدیدار نے کہا ہے کہ جہاں پانی کی قلت کی شکایت یا نشاندہی کی جارہی ہے وہاں آبی سربراہی کو حسب ضرورت فراہم کرنے کے لیے واٹر ٹینکرس کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں ۔ زمین میں آبی سطح کے متعلق شعبہ گراونڈ واٹر ڈپارٹمنٹ نے مطلع کیا ہے کہ مارچ 2018 میں پانی کی سطح 11.90 ایم جی بی ایل ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ اوسط سطح سے 6.80 ایم جی بی ایل کم ہے ۔ ونپرتی کے اس ریکارڈ سے میدک کے حالات زیادہ مختلف نہیں کیوں کہ 19.95 ایم جی بی ایل ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ مارچ 2017 کی بہ نسبت 2018 مارچ میں زمین میں آبی سطح میں زیر 0.94 میٹرس کی گراوٹ دیکھی گئی ہے ۔ تلنگانہ کے اکثر اضلاع میں زیر زمین آبی سطح میں کمی کی ایک اہم وجہ مانسون میں 10 فیصد بارش کی کمی اور بورویلوں کی کثرت ہے ۔ آبی بحران سے میدک ، سوریا پیٹ ، بدرادری کتہ گوڑم ، رنگاریڈی ، محبوب نگر ، وقار آباد متاثر ہیں اور عہدیداروں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ اپریل اور آئندہ ماہ مئی میں یہ آبی سطح مزید کم ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT