Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں سرکاری اداروں پر تقررات کے امکانات موہوم

تلنگانہ میں سرکاری اداروں پر تقررات کے امکانات موہوم

حیدرآباد۔10۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت نے اقتدار کے 6 ماہ مکمل کرلئے، تاہم سرکاری اداروں پر تقررات کے فوری طور پر کوئی آثار نہیں۔ سرکاری اداروں پر تقررات کے عمل میں تاخیر کے سبب ٹی آر ایس قائدین اور کارکنوں میں مایوسی دیکھی جارہی ہے۔ خاص طور پر اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین اور کارکن سرکاری عہدوں کی امید م

حیدرآباد۔10۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت نے اقتدار کے 6 ماہ مکمل کرلئے، تاہم سرکاری اداروں پر تقررات کے فوری طور پر کوئی آثار نہیں۔ سرکاری اداروں پر تقررات کے عمل میں تاخیر کے سبب ٹی آر ایس قائدین اور کارکنوں میں مایوسی دیکھی جارہی ہے۔ خاص طور پر اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین اور کارکن سرکاری عہدوں کی امید میں مختلف وزراء اور قائدین کے چکر کاٹتے ہوئے مایوس ہوچکے ہیں۔ پارٹی قائدین اور کارکنوں کی مایوسی اور ناراضگی کا اندازہ حال ہی میں منعقدہ گریٹر حیدرآباد سطح کے کارکنوں کے اجلاس میں دیکھنے کو ملا جس میں قائدین نے کھل کر تقررات میں تاخیر پر نکتہ چینی کی۔ واضح رہے کہ تشکیل حکومت کے بعد سے اقلیتی قائدین کو سرکاری اداروں پر نامزد کرنے کا تیقن دیا گیا، جس کے بعد سے شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے قائدین اور کارکنوں کی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔

گزشتہ 14 برسوں کی تلنگانہ جدوجہد میں شامل اقلیتی قائدین کو امید تھی کہ تشکیل حکومت کے بعد انہیں سرکاری اداروں میں نامزد کرتے ہوئے انصاف کیا جائے گا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی امیدوں پر پانی پھر چکا ہے۔ شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے قائدین کو اب احساس ہونے لگا ہے کہ حکومت کی حلیف شہر کی مقامی سیاسی جماعت کے سبب ان سے ناانصافی ہورہی ہے۔ سابق میں کانگریس سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین کو بھی یہی شکایت تھی کہ حکومت اقلیتی اداروں کے تقررات کے سلسلہ میں مقامی جماعت کی رائے کے مطابق کام کرتی ہے۔ اب جبکہ مقامی جماعت ٹی آر ایس سے قریب ہوچکی ہے ، لہذا ووٹوں کے خواہشمند ٹی آر ایس کے قائدین میں مایوسی دیکھی جارہی ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اقلیتوں کو تیقن دیا تھا کہ ان سے متعلق اداروں پر جلد ہی تقررات کئے جائیں گے۔ انہوں نے غیر اقلیتی سرکاری اداروں میں بھی اقلیتی قائدین کو نمائندگی کا تیقن دیا تھا ۔ لیکن ابھی تک ان وعدوں پر عمل آوری کا آغاز نہیں ہوا۔ کئی قائدین ابھی بھی خود کو مختلف اداروں کے صدرنشین یا ڈائرکٹر کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ حکومت کو جن اداروں پر تقررات کرنے باقی ہیں، ان میں اقلیتی کمیشن ، وقف بورڈ ، اقلیتی فینانس کارپوریشن ، اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی شامل ہیں۔ اقلیتی کمیشن کی تشکیل کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے لہذا اس پر فوری تقررات ممکن نہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے حلیف جماعت کی نظریں وقف بورڈ اور حج کمیٹی پر ہیں۔ اقلیتی بہبود سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عہدیدار اردو اکیڈیمی کے بورڈ آف ڈائرکٹرس کی نامزدگی کے مخالف ہیں ۔ تاکہ اکیڈیمی کی سرگرمیوں میں سرکاری مداخلت کو روکا جاسکے۔ ان حالات میں ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین کے پاس مایوسی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ وہ سرکاری عہدوں کیلئے چیف منسٹر کے دفتر میں اپنے بائیو ڈاٹا داخل کرتے ہوئے تھک چکے ہیں۔ اب وہ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی اور وزراء کی سفارش حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اسی دوران چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ حکومت کے ایک سال کی تکمیل کے موقع پر سرکاری اداروں پر تقررات کا عمل شروع کیا جائے گا۔ قبل ازیں چیف منسٹر نے رمضان المبارک اور عید الاضحی کے موقع پر اقلیتی اداروں پر تقررات کا وعدہ کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اقلیتی اداروں کی تقسیم میں تاخیر کے سبب ان پر تقررات ممکن نہیں۔

TOPPOPULARRECENT