Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں سرکاری اساتذہ کے لیے نئی تعلیمی پالیسی

تلنگانہ میں سرکاری اساتذہ کے لیے نئی تعلیمی پالیسی

اسکولس کی حالت زار اور اساتذہ کے مسائل حل کرنے کے اقدامات
حیدرآباد۔18اگسٹ (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی نئی تعلیمی پالیسی برائے سرکاری اساتذہ تیار ہوچکی ہے اور بہت جلد اس پالیسی کو منظر عام پر لاتے ہوئے اسے قابل عمل بنانے کے اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔سرکاری اسکولوں کی حالت زار اور اساتذہ کی شکایات کو دور کرنے کیلئے حکومت اور محکمہ تعلیم نے نئی پالیسی تیار کرتے ہوئے اسے روبہ عمل لانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ محکمہ تعلیم تلنگانہ کی جانب سے تیار کردہ پالیسی کے مطابق سرکاری اساتذہ کو کم از کم اپنے ایک بچہ کو سرکاری اسکول میں تعلیم دلوانا لازمی قرار دیا جائے گا تاکہ سرکاری اسکولوں کی حالت کو بہتر بنانے میں سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ میں ہی احساس پیدا کیا جا سکے ۔حکومت تلنگانہ و محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا خیال ہے کہ ریاست میں سرکاری مدارس کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے غیر کارکرد ہونے کی بنیادی وجہ اساتذہ کی عدم دلچسپی اور تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے اولیاء و سرپرستو ںمیں شعور کی کمی ہے اسی لئے حکومت نے جو پالیسی تیار کی ہے اس کیلئے مختلف شعبہ جات اور کارپوریٹ اداروں سے تجاویز طلب کی گئی ہیں تاکہ سرکاری مدارس کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے کروڑہا روپئے خرچ کرنے سے قبل ایسی حکمت عملی تیار کی جائے جس کے ذریعہ شہریوں کو بھی سرکاری اسکولوںپر اعتماد ہونے لگے۔حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق جو اسکول حکومت کی ذاتی ملکیت والی جائیدادوںمیں چلائے جا رہے ہیں ان اسکولوں کو معیاری بین الاقوامی اسکولوںمیں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے اس سے قبل محکمہ کے ملازمین کو اس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ وہ اپنے کم از کم ایک لڑکے یا لڑکی کو سرکاری اسکول میں داخلہ دلوائیں کیونکہ ان کے بچے ہی اگر ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے پہنچنے لگ جائیں گے تو اساتذہ کے متعلق موصول ہونے والی شکایات میں نمایاں کمی واقع ہوگی کیونکہ تعلیمی معیار میں از خود اضافہ ہونے لگے گا۔محکمہ تعلیم کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس پالیسی کو منظوری دیئے جانے امکانات ہیں اور بہت جلد یہ احکام جاری کئے جا سکتے ہیں تاکہ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے اس پر عمل آوری کو ممکن بنایا جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ اس تعلیمی پالیسی سے کسی کو اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ سرکاری مدارس کے تعلیمی معیار کے متعلق اگر اساتذہ ہی مشتبہ رہیں گے تو سرکاری مدارس میں عوام کس طرح سے داخلہ حاصل کرنے کو ترجیح دیں گے اسی لئے اس تعلیمی پالیسی پر عمل آوری ممکن ہے۔

TOPPOPULARRECENT