Wednesday , November 22 2017
Home / مضامین / تلنگانہ میں سنگین مالیاتی بحران 14 ماہ میں خزانہ خالی، سرکاری ملازمتوں پر تقررات روک دیئے گئے

تلنگانہ میں سنگین مالیاتی بحران 14 ماہ میں خزانہ خالی، سرکاری ملازمتوں پر تقررات روک دیئے گئے

محمد نعیم وجاہت
ملک کی 29ویں ریاست تلنگانہ پر مالیاتی بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں، 7500کروڑ کا فاضل بجٹ رکھنے والی ریاست اچانک 14ماہ میں 6000 کروڑ روپئے کے خسارے کے بجٹ میں کیسے تبدیل ہوگئی یہ موضوع بحث ہے۔ معاشی بحران کو ٹالنے کیلئے سرکاری خزانے کو منجمد کردیا گیا یہاں تک کہ ہنگامی حالات کیلئے فنڈز جاری نہ کرنے ٹریژیری عہدیداروں کو حکم دیا گیا ہے۔ صرف تنخواہیں، فیسٹول لون اور جی پی ایف کی رقم کے علاوہ پشکرالو کیلئے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ سرکاری کاموں اور فلاحی اسکیمات کو جاری رکھنے کیلئے 6000 کروڑ روپئے کا خلاء پیدا ہوگیا ہے۔ معاشی بحران کو ٹالنے کیلئے تلنگانہ حکومت کے سامنے دو راستے ہیں یا تو ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے یا اخراجات کو گھٹادیا جائے۔ چیف منسٹر تلنگانہ پر منحصر ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ کے چندر شیکھر راؤ نے بلدی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کیلئے ٹیکسوں میں اضافہ کو لازمی قرار دیتے ہوئے یہ اشارہ دیا ہے کہ عوام پر مختلف صورتوں میں مالی بوجھ عائد ہونے والا ہے۔

2جون 2014 کو تشکیل پانے والی تلنگانہ ریاست میں 9500 کروڑ کا فاضل بجٹ ہونے کا چیف منسٹر نے اسمبلی میں دعویٰ کیا تھا۔ سارے ملک میں گجرات اور تلنگانہ دو ایسی ریاستیں ہیں جن کا فاضل بجٹ ہے۔ مگر صرف 14ماہ میں تلنگانہ ریاست خسارہ کی طرف گامزن ہے۔ ڈائرکٹر آف ٹریژری سے تمام اضلاع کے ٹریژری عہدیداروں کو احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وظیفے، جی پی ایف، فیسٹول لون کی ادائیگی کے علاوہ دوسرے فنڈز کی اجرائی کو روک دیا جائے۔ حکومت کے اس فیصلے سے 300کروڑ روپئے کے بلز کو روک دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سرکاری ملازمین کے انکریمنٹس، پی آر سی بقایا جات، ہنگامی صورتحال کے بلز کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے ٹیلی فون بلز، برقی بلز، اسٹیشنری بلز، شادی مبارک اسکیم، کلیان لکشمی اسکیم کے فنڈز کو بھی روک دیا گیا ہے۔ یہی نہیں گرام پنچایتوں کیلئے جاری ہونے والے فنڈز، 14ویں پلاننگ کمیشن کے فنڈز، فلاحی اسکیمات کی سبسیڈی کو بھی روک دیا گیا ہے۔ گرام پنچایت، منڈل و ضلع پریشد، میونسپل کارپوریشن کے حدود میں تعمیر ہونے والی سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی کاموں کے بلز کو بھی روک دیا گیا ہے۔ فنڈز کی اجرائی کو روک دینے سے گرام پنچایتوں کی حالت خراب ہوگئی ہے۔ پینے کے پانی کی سربراہی کیلئے پائپ لائن کی تنصیب کھٹائی میں پڑ گئی ہے۔

فیس ری ایمبرسمنٹ کی اجرائی کو بھی روک دیا گیا ہے اور 2014کیلئے حکومت نے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طلبہ کو پہلے مرحلے میں 400کروڑ روپئے جاری کرنے سے اتفاق کرتے ہوئے جی او بھی جاری کیا ہے۔ تاہم توقع کے مطابق حکومت کو آمدنی نہ ہونے کا بہانہ کرتے بناتے ہوئے 400کروڑ روپئے کی اجرائی کو روک دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مختلف کالجس کے انتظامیہ نے سال2014-15 میں فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس کیلئے جملہ3,35,402 درخواستیں وصول ہوئی ہیں جن میں بی سی طلبہ کے 7,30,469، ایس سی طلبہ 2,49,202 ایس ٹی طلبہ نے 1,34,976 اور اقلیتی طلبہ کی 1,20,151 درخواستیں شامل ہیں۔ ریاست کے مالیاتی مسائل کا جائزہ لینے کیلئے ریاستی وزیر فینانس  ایٹالہ راجندر نے فوری اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا ہے، مالی بحران کی تردید کی ہے۔ سال 2015-16کے پہلے سہ ماہی کے دوران 21جولائی تک ریاست میں انکم ٹیکس مرکزی حکومت کی فلاحی اسکیمات کے فنڈز، گرانٹس، قرض کے علاوہ دوسری صورتوں سے تلنگانہ حکومت کو 25,970 کروڑ روپئے وصول ہوئے ہیں جبکہ اخراجات31,872 کروڑ روپئے کے ہیں۔ فنڈز کے ڈیمانڈ اور اخراجات میں تقریباً 6000 کروڑ روپئے کا فرق پیدا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے حکومت نے اسکولی طلبہ کے دوپہر کے کھانے کی اسکیم بلز، مشن کاکتیہ کے بلز، پنچایت راج کے برقی بلز کو روک دیا ہے۔ مرکز کی جانب سے ریاست کو حاصل ہونے والے 1200 کروڑ روپئے کو روک دیا گیا ہے۔

اگر تلنگانہ کے مالی بحران کا جائزہ لیا جائے تو  اس کے کسی حد تک حالات اور پھر زیادہ تر حکومت ذمہ دار ہے کیونکہ گھر کے سالانہ بجٹ کی تیاری میں جو رہنمایانہ خطوط تیار کئے جاتے ہیں اسی طرح ریاست کے بجٹ کی تیاری، سرکاری خزانہ میں فنڈز کی موجودگی، آمدنی اور خرچ کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست کا بجٹ تیار کرنا پڑتا ہے۔ فضول خرچی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے  توقع کے مطابق کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی کام میں کامیابی کیلئے تین باتوں پر دھیان دینا ضروری ہے۔ پہلا منصوبہ بندی، دوسرا رابطہ، تیسرا عمل آوری۔ اگر ان تینوں  باتوں کے درمیان تال میل نہیں رہا تو مقصد میں کامیابی مشکل ہوجاتی ہے۔ تشکیل تلنگانہ ریاست کے موقع پر 2جون 2014 کو تلنگانہ میں 7500 کروڑ کا فاضل بجٹ تھا ، ریاستی وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے 10ماہ کیلئے 5نومبر 2014 کو 100,637 کروڑ روپئے پر مشتمل پہلا بجٹ پیش کیا جس میں 301.02 کروڑ روپئے فاضل بجٹ کے طور پر پیش کیا اور حکومت نے 10ماہ کے دوران صرف60,000 کروڑ روپئے ہی خرچ کیا جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف چھ ماہ میں 7500 کروڑ کا فاضل بجٹ گھٹ کر 301.02کروڑ تک پہنچ گیا اور 10ماہ کے دوران ایوان میں منظورہ بجٹ کا 40فیصد حصہ بجٹ بھی خرچ نہیں کیا گیا اس طرح فنڈز خرچ بھی نہیں ہوئے اور فاضل بجٹ بھی گھٹ گیا۔حکومت اراضیات فروخت کرنا چاہتی تھی جس سے آمدنی کی حکومت کو توقع تھی وہ پوری نہ ہوسکی۔ مرکز سے بھی تلنگانہ کو توقع کے مطابق تعاون حاصل نہیں ہوا۔ ریاستی وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے 11مارچ 2015ء کو سال برائے 2015-16 کا 115,689کروڑ روپئے کا مکمل بجٹ پیش کیا جس میں 531 کروڑ روپئے فاضل بجٹ ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

سرکاری نظم و نسق پر عدم توجہ کے باعث ریاست میں صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی۔ فاضل بجٹ رکھنے والے ریاستی بجٹ کی طرف گامزن ہے۔ کیا اس کے لئے حکومت یا چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اور ریاستی وزیر فینانس ایٹالہ راجندر ذمہ دار نہیں ہیں۔  ریاست کی معاشی صورتحال ابتر ہونے کے بعد حکومت ہوش میں آئی ہے۔ مارکٹ سے 1400کروڑ روپئے کا قرض حاصل ہوگیا۔ تلنگانہ حکومت مالی بحران کیلئے ریزروبینک آف انڈیا کو ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ آر بی آئی نے IT liability کیلئے تلنگانہ کے 1,274کروڑ روپئے منہا کرلئے ہیں جس پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔

معاشی بحران کیلئے ریاستی حومت اس لئے ذمہ دار ہے کہ اس نے 14ویں فینانس کمیشن سے رجوع ہوکر تلنگانہ کو دولتمند ریاست ہونے کا دعویٰ کیا اور آئندہ پانچ سال میں ریاست تلنگانہ کا فاضل بجٹ بڑھ کر 21,972  کروڑ روپئلے تک پہنچ جانے کا بھی دعویٰ کیا جس کی وجہ سے مرکز سے ریاست کو حاصل ہونے والے فنڈز میں کمی کردی گئی اور ساتھ ہی تلنگانہ ریاست کو 2015-16تا 2019-20 تک گرانٹ کو روک دیا گیا۔ 14ویں فینانس کمیشن کو پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کو خسارہ بجٹ میں چلنے والی ریاستوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے  22,113 کروڑ روپئے مرکزی گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہی نہیںبلکہ 14ویں فینانس کمیشن نے سنٹرل ٹیکس کے حصہ میں بھی تلنگانہ کے نشانہ کو 2.91فیصد سے گھٹاکر 2.48 فیصد تک محدود کردیا جبکہ آندھرا پردیش کے حصہ کو بڑھا کر 4.30فیصد کردیا۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پی آر سی کی سفارش پرسرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر 18,400 کروڑ روپئے خرچ کئے جاتے تھے جو اب بڑھ کر 25ہزار کروڑ روپئے ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ آر ٹی سی ملازمین کی تنخواہوں میں 44فیصد اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ملازمین کی تنخواہوں میں47فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت تشہیری کاموں سے عوام کے دلوں میں اپنا مقام پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ یہ کوشش عارضی طور پر اثر انداز ہوسکتی ہے عملی اقدامات ہی دیرپا ثابت ہوں گے۔ تلنگانہ کے پہلے یوم تاسیس کے موقع پر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے جولائی 2015 کے دوران ریاست میں 25 ہزار سرکاری ملازمتوں  میں تقررات سے سرکاری خزانہ پر مزید 900کروڑ روپئے زائد مالی بوجھ عائد ہوگا۔ تلنگانہ کی نازک معاشی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمتوں کے تقررات کو ٹالا جارہا ہے۔ معاشی حالت کے ابتر ہونے کیلئے حکومت کی غیر منصوبہ بند پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ عوام میں اپنا مقام بنانے کیلئے چیف منسٹر جہاں بھی جارہے ہیں وہاں کروڑہا روپئے کے اعلانات کررہے ہیں جس کے اثرات کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جارہا ہے۔ یادگیری گٹہ کیلئے100کروڑ، ویملواڑہ مندر کیلئے 100کروڑ کے اعلانات اور پشکرالو پر تقریباً 600 کروڑ روپئے کے ترقیاتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ ماہ رمضان کے دوران غریب مسلمانوں میں ملبوسات کی تقسیم اور افطار پارٹیوں کیلئے 26کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں ۔اس کے علاوہ آبپاشی پراجکٹس کے ازسر نو ڈیزائن تیار کئے گئے ہیں جو سرکاری خزانہ پر مالی بوجھ عائد ہونے کا سبب بن رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT