Monday , June 25 2018
Home / ہندوستان / تلنگانہ میں سیمی کی سرگرمیوں کی گہرائی سے تحقیقات ناگزیر

تلنگانہ میں سیمی کی سرگرمیوں کی گہرائی سے تحقیقات ناگزیر

مرکزی وزیر داخلہ سے بنڈارو دتاتریہ کی نمائندگی

مرکزی وزیر داخلہ سے بنڈارو دتاتریہ کی نمائندگی
نئی دہلی۔/7اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام )مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ نے آج وزیر داخلہ سے یہ گذارش کی ہے کہ ضلع نلگنڈہ میں 2عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے پیش نظر تلنگانہ میں سیمی کی سرگرمیوں کی گہرائی سے تحقیقات کیلئے این آئی اے جیسی مرکزی تحقیقاتی اداروں کو شامل کیا جائے ۔ سینئر بی جے پی لیڈر اور مملکتی وزیر لیبر و ایمپلائمنٹ نے کہا کہ عسکریت پسند تنظیم کے دو کارکنوں کی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے واقعہ پر تلنگانہ عوام کے ذہنوں میں خوف و دہشت کی لہر دو ڑ گئی ہے۔ مسٹر بنڈارو دتاتریہ جوکہ پارلیمانی حلقہ سکندرآباد سے نمائندگی کرتے ہیں آج وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور اس خصوص میں نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی اور انٹلی جنس بیورو کو شامل کرنے کی گذارش کی۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے اپنی نمائندگی میں کہا کہ تلنگانہ میں امن و قانون کی صورتحال کا جائزہ بالخصوص ضلع نلگنڈہ کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے مرکزی تحقیقاتی اداروں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں پر بین الاقوامی ممنوعہ تنظیمیں عرصہ دراز سے سرگرم ہیں اور یہ تنظیمیں دہشت گردی کے ذریعہ توجہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ یہ ملاقات ضلع ورنگل میں پولیس کے ساتھ انکاؤنٹر میں 5افراد بشمول مقامی عسکریت پسند تنظیم تحریک غلبہ اسلام کے بانی وقار الدین احمد کی ہلاکت کے ایک دن بعد کی گئی ہے۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ شہر حیدرآباد ممنوعہ عسکریت پسند تنظیموں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات کی گہرائی سے تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT