Saturday , December 16 2017
Home / کھیل کی خبریں / تلنگانہ میں طلبہ کے اسکول بیگس کے وزن پر حکومت کی پابندی

تلنگانہ میں طلبہ کے اسکول بیگس کے وزن پر حکومت کی پابندی

بچوں کی صحت کے پیش نظر احکام
حیدرآباد 19جولائی (یواین آئی ) تلنگانہ حکومت نے دیگر ریاستوں کی تقلید کرتے ہوئے اسکول بیگس کے وزن پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے احکام جاری کئے گئے ۔ ان احکام کے مطابق اول اور دوم جماعتوں کے طلبہ کے بیگ کا وزن 1.5 کلو سے زائد نہیں ہونا چاہئے جب کہ سوم تا پنجم جماعتوں کے طلبہ کا وزن تین کلو ، چھٹویں تا ساتویں جماعت کے طلبہ کے بیگ کا وزن 4 کلو ، آٹھویں ، نویں جماعت کے طلبہ کے بیگ کا وزن 4.5 کلو اور دسویں جماعت کے طلبہ کے بیگ کا وزن 5 کلو سے زائد نہیں ہونا چاہئے ۔ ایسی پابندی نہ ہونے کے سبب طلبہ 6 تا 12 کلو کے وزنی بیگ اسکولس کو لے جانے کیلئے مجبور تھے ۔ بعض اوقات یہ وزن بڑھ کر 17کلو بھی ہوجایا کرتا تھا جس سے طلبہ کی پیٹھ اور ٹخنوں پر زائد وزن پڑرہا تھا ۔ کئی معاملت میں طلبہ کو ان بیگس کے ساتھ ہمہ منزلہ عمارت چڑھنی پڑتی تھی جس سے ان کو مزید صحت کے خطرات لاحق تھے ۔ حکومت نے ایک سروے کے بعد طلبہ کے بیگس کا وزن مقرر کیا ہے ۔ ڈائرکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کے افسروں نے یہ بات بتائی ۔ ان احکام میں اسکولس کے انتطامیہ سے خواہش کی گئی کہ وہ بچوں کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کریں تاکہ طلبہ گھروں سے پانی کی بوتلیں لانے سے گریز کریں کیوں کہ بیگس میں کتابوں کے ساتھ پانی کی بوتلوں سے بھی زائد وزن ہورہا تھا ۔ یہ کہتے ہوئے پرائمری اسکول کے طلبہ کیلئے کوئی ہوم ورک نہیں ہونا چاہئے ۔ حکومت نے کہا کہ اساتذہ کی نگرانی میں اسکول کے اوقات میں ہی نصابی کتب کے یونٹ ؍ سبق کے اختتام پر اس سے متعلق مشقیں اور کام کروایا جائے ۔ ان احکام میں کہا گیا کہ اسکول کو چاہئے کہ وہ مخصوص مضامین کیلئے ہوم ورک دینے چھٹویں تا دسویں جماعت کے طلبہ کیلئے مخصوص دنوں کا انتخاب کرنے کا منصوبہ تیار کریں ۔ اس قدم کا استقبال کرتے ہوئے اشیش نریڈا رکن عاملہ حیدرآباد اسکولس پیرینٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت کی اس کوشش کا کافی دنوں سے انتظار کیا جارہا تھا ۔ تلنگانہ ریکگنائزڈ مینجمنٹس ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے ایس سرینواس ریڈی نے کہا کہ اس مسئلہ پر طلبہ کے ساتھ ساتھ والدین کیلئے بھی اورینٹشن پروگرام کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو تمام نصابی کتب اور کاپیوں کو اپنے ساتھ لے جانا پڑتا ہے حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔ والدین کو چاہئے وہ اپنے بچوں کے بیگس کی معمول کے مطابق جانچ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ ٹائم ٹیبل کے مطابق صرف اس میں کتابیں ہی رہیں ۔

TOPPOPULARRECENT