Tuesday , December 11 2018

تلنگانہ میں عظیم اتحاد کو اکثریت یقینی، کے سی آر کا عوام کے ساتھ دھوکہ

آندھرائی افراد کو بڑے کنٹراکٹس دیئے گئے، کانگرسی قائد ریونت ریڈی کا صحافت سے ملاقات پروگرام سے خطاب

حیدرآباد۔25نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسڈنٹ ریونت ریڈی نے کہاکہ مخلوط اسمبلی کی صورت میں عظیم اتحاد مجلس سے اتحاد کے بجائے اپوزیشن میںبیٹھنے پر اکتفا کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ ایک عظیم اتحاد( مہاکوٹمی) اور دوسرا کے سی آر کوٹمی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ مہاکوٹمی میں کانگریس‘ تلگودیشم ‘ سی پی آئی اور تلنگانہ جنا سمیتی ہیں جبکہ کے سی آر کوٹمی میں ٹی آر ایس ‘ بی جے پی او رمجلس شامل ہیں۔ مجلس سے ہاتھ ملاناگویا ٹی آر ایس اور بی جے پی سے ہاتھ ملانے کے مترادف ہوگا۔ تاہم ریونت ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میںعظیم اتحاد کی کامیابی یقینی ہے اور اس بات کا کار گذار چیف منسٹر کے سی آر نے بھی اعتراف کرلیا ہے ۔ عظیم اتحاد بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگا اور کے سی آر فارم ہاوز چلے جائیں گے اور ان کے بیٹے کے ٹی آر امریکہ روانہ ہوجائیں گے۔آج یہاں بشیر باغ پریس کلب میں تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کے زیراہتمام صحافت سے ملاقات پروگرام کے دوران ریونت ریڈی نے ٹی آر ایس کے چار سالہ دور اقتدار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ریونت ریڈی نے کہاکہ عظیم اتحاد کوتنقیدوں کا نشانہ بنانے والے ٹی آر ایس سربراہ کے سی آر اس بات کو فراموش کرچکے ہیںکہ انہوں نے آبپاشی پراجکٹ آندھرائی کنٹراکٹرس کے حوالے کئے ہیں۔ انہوں نے کے سی آر سے دریافت کیا کہ تلنگانہ میں کوئی برہمن پجاری نہیں تھے جس کی نگرانی میں چنڈی یگنم نہیں کراسکتے تھے ۔ کانگریس ورکنگ پریسڈنٹ کانگریس پارٹی ریونت ریڈی نے کہاکہ ٹی آر ایس ایک پرائیوٹ لمٹیڈ میںتبدیل ہوگئی ہے ۔انہو ںنے کہاکہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میںٹی آر ایس پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ انہو ںنے کہاکہ دلت ‘ قبائیلی اور پسماندہ طبقات کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو بھی کے سی آر نے دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ٹی آر ایس کو معلوم تھا کہ مسلم اقلیت کو بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی ممکن نہیںہے اس کے باوجود وعدہ کرکے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرلیا۔ انہو ںنے کہاکہ کانگریس واحد سیاسی جماعت ہے جس نے پانچ فیصد کا وعدہ کیا مگر قانونی وجوہات کی بناء پر عدالت میںکانگریس حکومت کے فیصلے کو چیالنج کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہاکہ اس کے بعد چار فیصد تحفظات مسلمانو ںکو فراہم کئے گئے۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ تلنگانہ میںعظیم اتحاد اقتدار میںآتا ہے تو یقینا دیگر طبقات کے ساتھ مسلمانوں کو بھی ترقی کے مساوی مواقع فراہم کئے جائیںگے۔ ریونت ریڈی نے تلنگانہ میںکسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو ختم کرنے کے لئے ایک علیحدہ کمیشن کے قیام کی وکالت کی ۔ انہو ںنے کہاکہ محکمہ پولیس‘ فینانس اور ریونیو سے اہم شعبہ کسانوں کا ہے مگر حکومت تلنگانہ نے کسانوں کی فلاح وبہبود کے لئے موثر اقدامات نہیںاٹھائے جس کی وجہہ سے تلنگانہ میںکسان خودکشی کرنے پر مجبو رہوگیاہے۔ کسانوں کی فلاح بہبود او ربازآبادکاری کے لئے علیحدہ کمیشن کا قیام عمل میںلایا جانا چاہئے۔ مسٹر ریڈی نے تعلیم پر توجہہ کوضروری قراردیا۔ انہوں نے بالخصوص ان بچوں کے لئے جن کے والدین صحافی ہیں۔انہوں نے بے ترتیب اوقات میںکام کرنے کی وجہہ سے صحافی اپنے بچوں کی تعلیم پر زیادہ توجہہ مرکوز نہیںکرسکتے۔انہوں نے کہاکہ عظیم اتحاد کی حکومت تشکیل پاتی ہے تو اس حساس مسئلہ پر کام کیاجائے گا۔ریونت ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ میں عظیم اتحاد کی کامیابی یقینی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT