تلنگانہ میں عظیم اتحاد کی شکست کے بعد چندرا بابو نائیڈو کومایوسی

ریاست میں تلگو دیشم دو نشستوں تک محدود ، قومی اتحاد کی مساعی کرنے والے قائد کا عوامی اتحاد کا تجربہ ناکام ثابت
حیدرآباد ۔ 12 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف تمام غیر بی جے پی جماعتوں کو متحد کر کے عظیم اتحاد کا قیام عمل میں لانے کی کوششوں میں اپنا اہم رول ادا کرنے والے قومی صدر تلگودیشم پارٹی و چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو ریاست تلنگانہ میں عوامی اتحاد کا تجربہ ناکام ہونے کی وجہ سے سوائے مایوسی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ اگر تلنگانہ میں مہا کوٹمی کامیابی حاصل کرتی تو قومی سیاست پر انتہائی اہم اثر مرتب ہونے کا تلگو دیشم پارٹی نے تصور کر رکھا تھا ۔ لیکن وہ ( مہا کوٹمی ) جو سمجھ رکھا تھا وہ ممکن نہیں ہوسکا ۔ تلنگانہ کی تقسیم کے بعد منعقدہ انتخابات میں 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والی تلگو دیشم پارٹی اس مرتبہ صرف دو نشستوں تک ہی محدود ہوگئی ۔ علاوہ ازیں حلقہ اسمبلی کوکٹ پلی سے تلگو دیشم پارٹی ٹکٹ پر انتخابی مقابلہ میں حصہ لینے والی شریمتی ین سہاسنی بھی ناکام ہوجانے سے بھی تلگو دیشم پارٹی کو مزید مایوسی سے دوچار ہونا پڑا ۔ گذشتہ دنوں ریاست میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں تلگو دیشم پارٹی کو حاصل ہوئیں دو نشستوں سے تلگو دیشم پارٹی قائدین کو حیرت میں ڈال دیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ فلاح و بہبودی اسکیمات کی وجہ سے حکومت کو حاصل ہوئی ہمدردی اور نئی تشکیل پائی ریاست تلنگانہ میں مزید کچھ وقفہ تک موقعہ فراہم کرنے کے مقصد سے تلگو دیشم پارٹی کو کامیاب کیے جانے کا خود تلگو دیشم پارٹی کے قائدین نے اظہار کیا ہے ۔

عظیم اتحاد میں شامل پارٹیوں کو پائی جانے والی تائید و طاقتور ووٹ بینک اور ان کے ووٹوں کا صحیح استعمال کے باعث صرف ایک ضلع کھمم میں ہی تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی لہر پر کسی قدر بابو پانا ممکن ہوسکا ۔ دیگر اضلاع میں ٹی آر ایس کی لہر کو روکنا ممکن نہیں ہوسکا ۔ فی الوقت اپنی اصل سیاسی حریف سمجھی جانے والی بی جے پی کی تین ریاستوں میں ناکامی کے باعث تلگو دیشم پارٹی کو کسی حد تک راحت حاصل ہوئی ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ملک اور جمہوریت کا تحفظ کرنے کے مقصد سے ایک طویل مدتی کٹر حریف مانی جانے والی کانگریس پارٹی سے مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے مفاہمت کی اور سمجھا جاتا ہے کہ اگر آئندہ منعقد ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں اگر بی جے پی کو کامیابی حاصل ہونے کی صورت میں ریاست آندھرا پردیش کو مزید نقصان ہوسکتا ہے جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی تلگو دیشم پارٹی نے کانگریس کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا کر دیگر غیر بی جے پی جماعتوں کو متحد کرنے کے لیے ہی مسٹر چندرا بابو نے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور اس طرح تین ریاستوں مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں منعقدہ انتخابات میں بی جے پی کو زبردست دھکہ پہونچنے کے پیش نظر کانگریس پارٹی کے کسی حد تک موقف مستحکم ہونے کے نتیجہ میں تلگو دیشم پارٹی میں اب ایک نئی ہمت پائی جارہی ہے ۔ تلگو دیشم قائدین کے مطابق قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف چندرا بابو کی جاری جدوجہد میں اب مزید شدت پیدا ہوگی اور قومی سطح پر اس جدوجہد کے نتیجہ میں غیر بی جے پی جماعتوں پر مشتمل تشکیل پائے جانے والا عظیم اتحاد مضبوط و مستحکم ہوسکے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT